فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 347 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 347

۳۴۷ ان في ذلك لآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُؤْمِنِينَ ، سیپاره 19 - سوره شعراء- رکوع ۱ - - پھر بہت انبیاء کی نسبت اس طرح قصص کرتے کرتے قرآن کہتا ہے اورمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے۔فَاصْبِرُ اِنَّ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ، سیپاره ۱۲ - سورة هود - رکوع ۴ - اور کہتا ہے۔ان يكذِبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَعَادُ وَ ثَمُودُ وَقَوْمُ إِبْرَاهِيمَ وَقَوْمُ لُوطٍ وَ اصْحَابُ مَدينَ وَكُذِبَ مُوسى فَامْلَيْتُ لِلْكَافِرِينَ ثُمَّ أَخَذ تم فكيف كان تکثیر - سیپاره ۱۷ - سوره حج - رکوع ۶ - غرض ان تمام مکیہ آیات میں دیکھو۔جب کہ مسلمان نہایت کمز ور تھے کیسی کیسی پیشینگوئیاں ہوئیں اور صرف پیشین گوئی ہی نہیں تھی۔بلکہ نصرت الہیہ کیساتھ تھی۔اور پھر غور کرو۔کس طرح پوری ہوئیں۔ضرورت قرآن ایک پادری نے عدم ضرورت قرآن پر ایک کتاب لکھی ہے اور کتاب کا نام بھی خدم ضرورت قرآن رکھا ہے۔اس کتاب کا تمام مطلب ان دو جملوں میں موجود ہے۔رسالہ قدم ضرور کے مصنف اور اسکے ہمخیالوں کو قرآن کی ضرورت ثابت نہیں ہوئی اسلئے قرآن ضروری نہیں یا قرآن کے لے اس میں البتہ نشانی ہے اور وہ بہت لوگ نہیں ماننے والے " سے سو تو ٹھیرا رہ البتہ آخر بھلا ہے ڈر والوں کا ۱۲ ادرار و ما می توان سے پہلے نانا کی اس کا ا ا ا ا ا ا ا ا ا اور ان کی قوم اور ان کی قوم اور دین کے لوگ اور موٹی کو جھٹلا یا پھر میں نے ڈھیل دی منکروں کو پھران کو پکڑا تو کیسا ہوا میرا انکار۔