فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 345 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 345

۳۴۵ فإِن أَمَنُوا بِمِثْلِ مَا امَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا وَإِن تَوَلَّوْا وَانَّمَا هُمُ في شِقَاقٍ، فَسَيَكفِينَهُمُ اللهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ - سياره - سوره بقى ركوع ١٢- يَاتِهَا الرَّسُولُ بَلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النامين - سیپاره - - سوره مائدة - رکوع۔1 - دیکھو قرآن میں کیسے کیسے وعدے نصرت و امداد الہی کے موجود ہیں۔ایک مسکین اور غریب گروہ کو کثیر التعداد امراء اور روسا اور سپہ لاروں کے سامنے پھر انکے مذہب اور بت پرستی اور رسومات باطلہ کے مقابلے خالص خدا پرستی اور نئے اور عمدہ رسوم کی خوبی کا بیان۔پھر یہ صرف جھانسا اور مصنوعی دعوئی ہی نہیں بلکہ اسکی صداقت اور سچائی تمام دنیا آنکھ سے دیکھ سکتی ہے۔ہنی اور مسخرہ پن کرنیوالوں کا نام ونشان عرب میں نہ رہا۔عداوت شتقاق خواب و خیال ہو گئے۔نبی عرب خدا کی حفاظت سے صرف خدائی بلاہٹ پر دنیا سے عالم بالا کو تشریف لے گئے۔آپ کی عظمت اس آیت سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔وَكَذَّبَ بِهِ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ قُلْ لَسْتُ عَلَيْكُم بِوَكيْلٍ لِكُلِّ نَبَاء مُسْتَقَر وسوف تَعْلَمُونَ ، سیپاره۔۔سوره انعام - مر كوع - اہل کر جب آپ کو سخت سخت تکالیف پہنچاتے تھے۔اور اسلام کے استیصال پر کمربستہ تھے۔تو آپ نے اپنی کلام پڑھ سنایا اور کہا۔لے پر اگر وہ بھی یقین اور اینطوری بر تمرین اسے تورام پاویں اور اگر پھر یہ ہیں۔تو اب کہیں میں ضدیر۔سواب کفایت ہے تیری طرف سے ان کو اللہ اور وہی ہے سنتا جہانہ ہوا - ہیل اے رسول پہنچا جو انزا تیرے رب کی طرف سے اور اگر یہ ہ کیا تو نے کچھ نہ پہنچا یا اس کا پی ام اور اللہ تجھ کو بچا لیگا لوگوں سے" ملے اور اُس کو جھوٹ بہن یا تیری قوم نے اور یہ حقیق ہے تو کہ کہ میں نہیں میر داروغہ ہر چیو کا ایک وقت ٹھہرا رہا ہے اور آگے جان لو گے ہوا