فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 28 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 28

۲۸ اور ایک کلمہ بے ادبی کا منہ سے نکالا۔اس عورت کی شرمگاہ میں اس شقی نے برچھی ماری اور حلق کی راہ سے نکالی۔ایک طرف بچھڑوں کی پرستش کا نمونہ جوکچھ بنی اسرائیل نے دیکھار تورات دیکھنے والے منفی ہیں دوسری طرف تمام عیسائیوں نے میسج جیسے خاکسار بندے کو خدا مان لینے میں جوکہ عیسائی تعلیم سے مسیح کا نمونہ دکھا رہے ہیں، اس کا مقابلدان چند باتوں سے کر لو۔اور پھر سوچو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے شاگردوں اور موسیٰ مسیح کے شاگردوں میں کیا فرق ہے۔آپ کا جب انتقال ہو گیا جسوقت نبی عرب دنیا سے خدا کے پاس جا پہنچے۔ابوبکر نے مسجد نبوی میں لکھ دیا۔جس کا خلاصہ یہ ہے۔الا من كان يعبد محمد افات محمد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ يَعْبُدُ الله فإن الله حي لا يموت وَقَالَ اِنَّكَ مَيْتَ وَإِنَّهُمْ ميتون۔وَقَالَ وَمَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُول قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإن مات أو قتِلَ انْقَلَبُهُ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَ اللهَ شَيْئًا - و سجزى الله الشاکرین - سیپاره ۲ - رکوع ۶ - قَالَ فَشَبَّ النَّاسُ يَبْكُونَ آپ کے جانشینوں میں ابو مر ہیں۔ایام سلطنت اور خلافت میں ہر روز آپ کا اور آپکے تمام گھر کا مع عیال و اطفال کے کل دو درہم معنی آٹھ آنے کے قریب خرچ ہے۔وفات پر پرانی ے شہر دار ہو جاؤ جو کئی محمد کو وجود بانتا ہو وہ جان لے محمد وفا پانےکے اور جوکوئی الہ تعالی کو پوجا کرتا ہو ہیں جان لے للہ تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہو۔مرتا نہیں۔اور پھر کہا بیشک تو اسے میں مرنے والا ہے اور اگلے بھی مر چکے ۱ ہے اور ابو بکر نے کہا۔اور محمد تو ایک رسول ہو پہلے اس سے بہت رسول ہو چکے۔پھر کیا اگروہ مرجاوے یا قتل کیا جائے تو پھر جاؤ گے الٹے پاؤں پر اور جوکوئی پھر باد گیا الٹے پاؤں وہ نہ بگاڑ سکے گا اللہ کا کچھ او نزدیک ہے کہ اللہ ثواب دیگاش کر کرنے والوں کو۔پس لوگ چلا اٹھے روتے ہوئے۔"