فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 341 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 341

۳۴۱ جَاءَ وَكُمْ مِنْ فَوْقِكُمْ وَمِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الأَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّونَ بِاللهِ الظَّنُونَاهِ هُنَالِكَ ابْن الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْتِي لَوا لذا لا شَديد اه سیپاره ۲۱- سوره احزاب - می کوع ۲ - اور اس واقعے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے پہلے ہی سے مکے میں دیدی تھی کہ عرب کے احتراب اور ان کی سنگتیں ہمپر چڑھ آئینگی (جیسا کہ عنقریب آتا ہے) الا وہ سب بھاگ کر نا کامیاب پہلے جائیں گے۔اور ایسا ہوا کہ جب مسلمانوں نے اُس فوج کشیر کو دیکھا با اینهمه قلت تعداد بول اُٹھے۔ولَمَّارَ الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُواهد اما وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُوركَ وَصَدق الله وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمُ إِلَّا إِيْمَا نَا وَ تَسليما - سیپاره ۲۱ - سوره احزاب رکوع ۲- اس آیت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حملے کی بابت پہلے ہی خبردیدی تھی۔اور یہ شہر علی العموم موافق و مخالف میں پھیلی ہوئی تھی۔چنانچہ اذ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ مَّا وَعَدَ نَا اللهُ وَ رَسُولُ الأَغْرُورًا - سیپاره ۲۱ سوره احزاب - من کوع ۲ اس سے صاف ثابت ہو تا ہو کہ منافق وغیرہ مخالفین بھی پہلے ہی سے اس وعدے ہے جس وقت انہوں نے تم کو ہر طرف سے محصور کرلیا اور بوقت آنکھیں پتھر گئیں اور کلیجہ منہ کو آ گئے۔اور طرح طرح کے ظلن اللہ کی نسبت تم کرنے لگے۔اس موقعہ پر مومنین سخت بلا اور لرزے میں ڈالے گئے ۱۲۔اور نیب لمانوں نے اُن جماعتوں کو دیکھا بول اُٹھے یہ تو وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے ونڈ کیا اور بنچ کیا اللہ اور اس کے رسول نے اور ان میں ایمان او تسلیم اور بھی بڑھ گیا تھا۔سے اور جس وقت منافق اور بیمار ول لوگ کہنے لگے کہ الہ اور اسکے رسول نے تو ہم سے دعھد کا کھیلا ۱۲۔