فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 340
مام بعوام ہے اور چونکہ وہ یہ میں الفاظ و ترکیب آنحضرت کے قلب نبوت پر وحی کیا گیا ہو۔بالضرور اسے ایسا ہی ہونا چاہیئے۔مگر قرآن تحدی الفاظ کی بندش اور عبارت کی فصاحت کے در بابت نہیں۔قرآن کا دعوئی تو یہ ہے کہ کوئی کتاب ایسی لاؤ جس میں ایسی روحانی اخلاقی مکمل تعلیم ہو۔قرآن مجید کا یہ دعوئی ایسا ہو کہ حقیقتا اس کا کوئی جواب کسی سے آجتک بن نہیں پڑا۔اور یوں ادھر ادھر کی فضولیوں کی کیا وقعت ہو سکتی ہے۔پانچوین پیشینگوئی سورہ احزاب ہیں۔تمام عرب کے مختلف فرقے مدینے پر پڑھ آئے اور مدینے یہودہ اور کل منافق لوگ ان حملہ آوروں کے ساتھ شریک ہو گئے اور مسلمانوں کی یہ حالت ہوئی کہ لوگوں نے کہدیا۔يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُم - سیپاره ۲۱ - سوره احزاب - رکوع ۲ - اور یہانتک نوبت پہنچی کہ مظاہر کے ساتھی جن سے امداد کی امید تھی۔وہ بھی الگ ہونے شروع ہوئے جس کا بیان اس آیت میں ہے۔وستان فربن منهم التي يقولُونَ إِن بُيُوتَنَ عَوْرَةٌ ، وَمَا هِيَ بِعورَةٍ إن تُرِيدُونَ إلا سارا - سیپاره ۲۱ - سوره احزاب - رکوع ۲ - مسلمان پہلے ہی قلیل التعداد تھے۔اور دس ہزار کفار کے مقابلے میں تین ہزار سے بھی کمتر ا نکی جمعیت تھی۔اب ان لوگوں کے الگ ہو جانے سے ایسی خطر ناک حالت ہو گئی جس کا نقشہ قرآن شریف ان الفاظ میں کھینچتا ہے۔ان اے مسلمان مدینے والو۔تمہارے ٹھہرنے کی جگہ نہیں ۱۲۔اور ایک فریق ان میں سے نہی سے اجازت مانگتا کہ ہمارے گھر خالی ہیں۔حالانکہ وہ غالی نہ تھے فشا اُن کا فقط سجاگی، جانا تھا۔۱۲۔