فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 338
۳۳ كُم مِّن دُونِ اللَّهِ إِن كُنتُمْ صَدِقِينَ، فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَتُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ أُعِدَّتْ لِلْكفرين، سیپاره ۱- سوره بقر - رکوع ۳ - اور سکتے ہیں شرفاء و شعرائے قوم قریش کو خطاب فرمایا۔قل لي اجتمعت الارنسُ وَالْجِن عَلَى أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهير گاه سیپاره ۱۵۔سورۂ بنی اسرائیل - رکوع ۱۰- صداقت اور حق بھی بڑی قوت ہے۔اُس شخص سے بڑھ کر جرات اور جسارت کسی آدھی میں ہو سکتی ہے جس کا قلب ایمان کا نشنس غرض تمام تو نے نفسانی اُس کو کلی یقین اور اطمینان دلا دیں کہ تو صادق ہے۔اب اس اطمینان قلبی کی لازمی خاصیت یہ ہے کہ وہ صادق میں ایک مخصوص فوق العادۃ قوت اور زور پیدا کر دیتا ہے۔اور اُس کے جذبات روحانی میں اس قسم کی شدید و حدید حرارت موجود ہو جاتی ہے کہ موجودات اور کائنات کی توالے طبعی سے کوئی قوت و وجود اُس (صادق) کے دل میں ہیبت انگیز مغلوب کرنے والا رعب نہیں ڈال سکتا۔بلکہ اسکے مصدق کا جوش کرم مقناطیس کی طرح ضعیف مخلوق کے قوالی کے جہاز کو اپنی طرف منجذب کر لیتا ہے۔یہی وجدانی اور کیفی دلائل ایسے ہوتے ہیں جو منطقی اور فلسفی دلائل سے بڑھ کر دائمی اثر سامعین لہ اگر تم شک میں ہو اس سے جو ہم نے اپنے بندے پر اتارا تو اسکے مثل کوئی ایک ٹکڑا الاو۔اور اللہ کے سوا پنے گواہوں کو بلاوا اگر ہے ہو پھر کریم نے کیا اور ہرگزنہ کر سکو گے تو وہ اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور بہتر ہیں جو کافروں کیلئے طیار کی گئی ہے " ہے تو کہدے کہ اگر جن اور انس اس قرآن کے مثل لانے پر متفق ہو جاویں تو اس کے مثل نہ لاویں گے۔گویا ہمدگر مددگار بن جاویں ہے