فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 334 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 334

۳۳ کلمہ اللہ بر سبد انتقام آمادہ ہوا کہ اُن کے دشمنان دین حق کو بلاک کیا جائے۔مگر بار بتائے با این ہمہ اپنے رسول سے فرماتا ہو کہ جب تک تو ان لوگوں میں موجود ہے (یعنے سرزمین کئے ہیں) اُن پر عذاب نہ ہوگا۔اور عالم الغیب حق تعالیٰ ایک سال اسکی میعاد مقرر فرما تا ہو کہ یقینا اس عرصے میں بلا تقدم و تاخر ایک ساعت کے یہ واقعہ نہ وال وقوع میں آئیگا۔قدرت حق کا کرشمہ مشاہدہ فرمائیے کہ کیونکر یہ وعدہ ایک سال بعد پورا ہوتا ہے۔اب کفار عرب نے جن کا سرخنہ ابو جہل تھا۔آنحضرت صلعم کے قتل کی مشورت کی۔اسی واسطے ہار جلائی سنہ جمعے کے دن آپ نے لگے سے ہجرت کی اور مدینہ منورہ کو چلے گئے۔دوسرے سال یعنی ۱۲ ء میں بازار کا معرکہ ہوا۔جس میں وہ سب معاندین اور مافین تباہ اور عذاب الہی میں گرفتار ہوئے۔وَالْحَمْدُ اللهِ عَلى ذلِكَ تیسری پیشینگوئی اسوقت جب ناصرین و معاندین اسلام کی جماعت نہایت قلیل تھی جب آ نحضرت کا جان و مال سخت معرض خطرہ میں تھا۔اسوقت جبکہ شہر مکہ اور اسکے اطراف و حوالی میں کل قبائل قریش آنحضرت کے قتل و قمع کی سازشیں دوڑا رہے تھے۔اور بیشک ان کی موجودہ حالت اور سامان نے اُنکے ارادوں کے پورا ہو جانے کی قومی امید دلار کھی تھی۔خدا اپنے رسول کو تقویت دیتا اور اسکی عصمت اور حفظ کا ذمہ اٹھاتا ہے۔ياتيها الرَّسُول بلغ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلُ فَمَا بَلَغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ سیپاره -- سوره مائده - رکوع ۱ - اس وعدہ الہی کو آنحضرت نے بآواز بلند پکار پکار کر دشمنوں کے مجمع کو سنایا کہ ران اسے رسول جو تجھ پر تیرے رب سے اترا ہے پہنچا دے۔اور اگر تونے ایسا نہ کیا تو اس کے پیغام کو نہ پہنچایا۔(ڈرمت) اور اللہ تجھ کو لوگوں سے محفوظ رکھینگا ۱۲۔