فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 318 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 318

( قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا - سباره سوره بر اسرائين جو ٹو (٢) إِنَّ الَّذِينَ يُمَا يَمُونَكَ إِنَّمَا يُبا بعون الله (٣) ) رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ الله رکی - سیپاره 4 - سُوره انفال۔عیسائی خوش اعتقاد جیسے الوہیت مسیح اور کنارے پر یقین کر بیٹھے ہیں۔ایسی ہی یہ بھی خیال و ہم کرتے ہیں کہ یہ بشارت سیح کے حق میں اور یا روح القدس کے حق میں ہے۔جو حواریوں پر اتری۔حالانکہ یہ خیال عیسائیوں کا نہایت غلط ہے۔اول تو اسلئے مسیح فرماتے ہیں۔میرے وصایا کو محفوظ رکھو۔پھر اس روح کی خبر دیتے ہیں۔پس اگر وہ روح مراد ہوتی جو جواریوں پر اتری۔تو اسکی نسبت ایسی تاکید ضروری نہ تھی۔لیونکہ جس پر نازل ہوتی ہو۔اُسے اشتباہ ہی کیا ہوتا ہے۔حواری تو نزول روح کے عادی تھے۔دوم یوحنا باب ، میں اس روح کی تعریف میں لکھا ہو۔وہ روح پاک میرے نام سے ہر بات تم کو سکھلا دیگی۔اور یاد دلاویکی تم کو وہ باتیں جو میں نے کہی ہیں اعمال حواریوں سے معلوم نہیں ہوتا کہ مسیح کے فرمانے سے جواری کچھ بھول گئے تھے۔اور اس روح القدس نے جو حواریوں پر اتری۔جوانی کو کچھ یاد دلایا۔ہاں نبی عرب نے بہت کچھ یاد دلایا۔عیسائی مسیح کی خالص ہاں صرف انسانیت بھول گئے تھے۔عام بت پرستوں کی طرح الوہیت کو انسانیت سے ملادیا تھا۔مسیح کو معبود بنا رکھا تھا۔اسی کو کفارہ اپنے معاصی کا بنا رہے تھے۔نبی عرب نے سب کچھ یاد دلایا۔اور سیدھا راستہ بتایا۔سوم۔یوجنا ہ ا باب ۲۶ و ۱۶ باب میں ہے۔وہ روح میرے لئے گواہی دے گی۔اور لے لو کہ آیا یے اور نکل بھاگا جھوٹ۔بیشک جھوٹ ہے نکل بھاگنے والا ۱۳۔at ہو لوگ ہاتھ ملاتے ہیں تجھ سے وہ ہاتھ ملاتے ہیں اللہ سے ۱۲۔میں تو نے نہیں پھینکی مٹھی خاک جس وقت تھی اللہ تعالیٰ نے پھینکی ۱۲۔