فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 25
۲۵ تم کہتے ہو۔آپ شریر اور مکار تھے۔ہم کہتے ہیں۔آپ زمانے کے سقراط تھے۔جب ہم آپ کو برائیوں سے متصف سنتے ہیں۔تو آپ کے رویے کی طرف نظر کرتے ہیں۔جو فریقین کے قول سے ابتدائے عمر اور ایام شباب میں رہا ہے۔ہم پوچھتے ہیں۔اس عجیب روئیے سے آپنے کیا مقصد سونچا۔اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ آپ کا مقصد دو حظ نفسانی تھے۔اول عورتوں سے عشرت کرنا۔دو کم استیعاب بلند و سنگی جس سے یہ غرض ہو کہ ایک شہر کے تاجر بنکر اپنے آپکو بادشاہ دنیا بنا دیں۔اس کی طیاری کے لئے آپنے چودہ برس خلق سے کنارہ کیا۔اور اپنے طور بے عیب رکھا۔اب ہم دریافت کرتے ہیں کہ دنیا کی تاریخ میں کوئی بات اسکے مثل اور بھی پائی جاتی ہے۔اگر عورتوں سے عشرت مقصود تھی۔تو یہ عجیب و غریب معاملہ ہو کہ آپنے ۲۵ برس کی عمر میں جو وقت کہ خاص جوش جوانی کا خیال کیا جاتا ہے۔صرف خدیجہہ ہی سے نکاح کیا۔جو آپ سے پندرہ برس بڑی تھیں۔اور گو بموجب قواعد اپنے ملک کے آپ بہو سے نکاح کر سکتے تھے۔مگر آپ اس قاعدے سے متمتع نہ ہوئے اور تا حین حیات اس بیوی کے اُسی کیساتھ ۲۰ برس مع خیال کثیر کے نباہ کیا۔اگر محمد کا مقصد صرف بلند حوصلگی ہی تھی۔تو بذریعہ سازش کے کوشش کر کے اپنے آپکو محافظ کعبہ کیوں نہ کرا لیا۔اس عہدے پر پہلے آپکے آباء و اجداد مامور تھے۔اور جس شخص کے نام یہ عہدہ ہوتا تھا۔وہ گل ریاست بلکہ واقع میں تمام عرب کے اندر اول درجے کا ر میں گہنا جاتا تھا۔اگر صرف بلند حوصلگی مقصود تھی۔تو یہ امر کہ اپنے آپکو یہودیوں کا مسیح بیان کرتے۔بہتر تھا بہ نسبت اس طریق کے جو آپنے اختیار کیا بیتی آپ کو مسیح کا پیرو ظاہر کیا۔اس میں شک نہیں کہ اگر آپ اور آپکے جانشین اس رویے کو اختیار کرتے اور بیت لندن کو اپنا مسکن بناتے تو کل کمبخت یہودی آپکے زمرے میں داخل ہو جاتے۔اور عیسائیوں میں بھی کم سے کم اسقدر آتے جس قدر کہ دوسری صور کے اختیار کرنے میں شامل ہوئے۔دفع انت بیشتان ے نوٹ۔جو صفحہ ۲۳ پر درج ہے کیا