فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 284 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 284

سلام هر سوال چوتھی بشارت "-" میرا دوست نورانی گندم گوں۔ہزاروں میں سردار ہے۔اس کا سر میرے کا سا چمکدار ہے۔اس کی زلفیں مسلسل مثل کوے کے کالی ہیں۔اس کی آنکھیں ایسی ہیں جسے پانی کے گنڈل یہ کبوتر۔دودھ میں ڈھلے ہوئے نگینے کے مانند جڑی ہیں خانے میں۔اسکے رخسارے ایسے ہیں جیسے ٹی پر خوشبودار میل چھائی ہوئی۔اور چکلی پر خوشبو گڑی ہوئی۔اسکے ہونٹ پھول کی پنکھڑیاں جن سر خوشبو ٹپکتی ہو۔اسکے ہاتھ ہیں سونے کے ڈھلے ہوئے۔جواہر سے جڑے ہوئے۔اس کا پیٹ جیسے ہاتھی دانت کی تختی ہو اہر سے لی ہوئی۔اسکی پنڈلیاں ہیں جیسے سنگ موسی کے ستون سونے کے بیٹھکے پر جڑے ہوئے۔اس کا چہرہ مانند ماہتاب کے جوان مانند صنوبر کے۔اس کا گلا نہایت شیریں اور وہ بالکل محمد یعنی تعریف کیا گیا ہے۔یہ ہو میرا دوست اور میرا محبوب۔(بیٹیو یروشلم کی کتاب غزل الغزلات سلیمان باب ۵ آیت ، الغایت (۱) اگر چه اس مقام پر حضرت سلیمان نے خدا کی تسبیح میں گیت گایا ہے۔اور ایسی مناجات کی ہے۔گر ضرور وہ ایک کسی بڑے شخص قابل تعظیم و ادب کے آنے کے متوقع ہیں۔اور اس کی بشارت دیتے ہیں۔اور اسی کو اپنا محبوب بتاتے ہیں۔اور اپنے اُس محبوب کی شاعرانہ تعریف کرتے ہیں۔اور پھر صاف بتاتے ہیں کہ وہ میرا محبوب محمد ہو۔صَلَّى اللهُ عليه و سلم- محمد کے معنی تعریف کئے گئے کے ہیں۔پس حضرت سلیمان نے اپنی مناجات میں اپنے محبوب کی تعریف کرتے کرتے اس کا نام ہی لے لیا۔کہ اگر اسکے معنی لوتو وہ بھی ایک لفظ تعریف ہے۔ورنہ وہ صاف صاف نام ہی تو ہے۔یہ مقام ایسا ہے جس میں صاف نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بتادیا گیا ہے۔مگر ہمارے خطبے کے پڑھنے والوں کے دلوں میں شبہ جاویگا۔کہ اگر نامہ بتانا تھا۔تو محمد کہا ہوتا محمد یم کیوں کہا۔مگر یہ بات یاد رکھنی چاہئیے۔کہ عبرانی زبان میں تھی اور تھر علامت جمع کی ہو۔