فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 283
PAY سمرقند والا فاران مبحث سے خارج ہے۔اور جو فاران طور یا سینا کے قرب میں واقع ہو۔وہ فاران نہیں جو ابراہیم کے وقت تھا۔وہ نہیں جس کا تورات میں ذکر ہے۔وہ نہیں جہاں ہاجرہ نے ہم جیل کے ہمراہ بیر شبیع میں راستہ گم کر کے اقامت کی۔اور وہ نہیں جہاں ابتداء اسمعیل کی اولاد آباد ہوئی۔وہ نہیں جہاں سے بعد سعیر خدا نے ظہور کیا۔ہاں بلاشبہ زمانے کے دور میں اسمعیل کی اولاد حجاز سے ملکر تمام عرب میں خلیج فارس تک پھیل گئی۔پس اگر حجاز کے سوا اور جگہ سے پڑانے ایسے کھنڈرات ملے ہوں۔جو بنی اسمعیل کے ناموں کے مشابہ ہوں۔یا مطابق تو وہ اس نفس الامری بات کو اُٹھا سکتے ہیں کہ اسمعیل حجاز میں آباد ہوا۔جو فاران سینا کے مغرب میں ہے۔اور جس کے آثار ملے ہیں۔وہ توریت کا خاران نہیں۔موسیٰ کے زمانے میں اس کا وجود نہ تھا۔موسیٰ مصر سے نکلے۔اور بحر احمد سے پار ہوئے۔تو شور میں پہنچکر سن کو طے کر کے افبیدیم میں ٹھیرے۔وہاں کرکے کتاب ۷۲ لغایت ، میں ہے۔عمالیق آکر اترے۔اس سے ثابت ہوتا ہے۔عمالیق افیدیم ی نہ تھی۔یہاں یاد رکھو کہ افیدیم کوہ سینا کے مغرب اور مصر کے شرق میں ہے۔پھر فیدیم سے موسی مشرق کیطرف سینا کو چھلے اور سینا میں پہنچے۔اس سینا کے غربی خاران کا ذکر موسی نے نہیں کیا۔پھر سینا سے آگے بڑھے اور شمال مشرق کو چلے۔اس راہ میں حضرت موسیٰ کہتے ہیں۔بنی اسرائیل بیابان سے نکلے اور بادل بیابان فاران میں ٹھہر گیا۔کتاب ۴-۱۰-۱۴- اس تقریر سے ثابت ہو گیا۔کہ حضرت موسی کے وقت، خاران کوہ سینا کے شمال مشرق میں قادیش کے قریب واقع تھا۔اور وہی حجاز کا بیابان ہے۔نہ غربی نشیب سینا کا۔البتہ ایسا معلوم ہوتا ہے۔عرب کی ایک قوم جو فاران بن حمیر کی اولاد میں سے تھی۔اور بینی فاران کہلاتی تھی کسی زمانے میں سینا کے مغرب میں آباد ہوئی ، اور اس سب سے وہ مقام فاران مشہور ہو گیا۔یہ وہ فاران نہیں جس کا ذکر تورات میں ہے۔و خطبات الاحمدیہ بتبديل يسير )