فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 244 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 244

علیہما السلام کی نسبت کوئی پیشین گوئی نہیں بلکہ موسی جیسے رسول کو دیکھو۔انکے واسطے بھی تب سابقہ میں کوئی پیشین گوئی نہیں اور کیونکر ہو سکتی۔عیسائیوں کے نزدیک میسی سے پہلوں کی کتابیں ہی موجود نہیں۔ایسے ہی ایوب کی نسبت بشارات موجود نہیں۔اگر مان لیں کہ بشارات کا ہونا اثبات نبوت کے لئے ضروری ہے توہم کہتے ہیں کہ بشارات کا ہونا اس امر کا مستلزم نہیں کہ وہ بشارات سابقہ انبیا کی کتب میں موجود ہوں۔جائز ہو کہ وہ ابشارات سینہ بسینہ چلی آتی ہوں۔یہ میرا خیالی اور وہمی عندیہ نہیں۔بلکہ نفس الامری اور واقعی ہے۔دیکھو متنی ۳ باب ۲۳ میں کہتا ہے۔بسیج ناصرت میں رہا۔تاکہ وہ بشارت پوری ہو جو انبیا کہتے آتے تھے کہ وہ ناصری کہلا دے گا۔حالانکہ انبیاء کہاں ایک نبی کی بھی کتاب میں نہیں لکھا کہ وہ ناصری کہلا دیگا ئیں یقین کرتا ہوں کہ حضرت متی اسی واسطے لکھتے ہیں کہ انبیا کہتے آتے تھے۔اور یہ نہیں فرماتے کہ انبیا لکھتے یا لکھواتے آتے تھے۔ناظرین یاد رکھو) ضرور یاد رکھو کہ مستی میں بھی انمیاد کہتے آتے تھے۔جمع کا صیغہ ہے۔یہ جمع کا صیغہ بہت سے بد زبان پادریوں کو شرمسار کرنے والا ہے۔اور اگر مان لیں کہ سابقہ انبیاء کی مقدسہ کتب میں اُن بشارات کا لکھا ہوا ہونا ضرور ہے تو ہم دلیری سے کہہ سکتے ہیں۔کل انبیا کی کتب کا موجود ہونا ضر و ر نہیں صاف عیاں ہے۔آدمم اور نوی اور ابراہیم اور یعقوب اور پوست وغیرہ انبیاء کی کتا میں کہاں ہیں۔پیدائیش کے پچاس باب میں یوسف نے جس خدائی قسم کا جو ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب سے ہوئی ذکر کیا ہے۔اس کا علم پو سٹے نے کس کتاب سے حاصل کیا۔اور اگر مانا جائے کہ بشارات کا مذکور ہونا ایسی کتابوں میں ضرور آکہ ہو موجود ہوں۔تو کہا جاتا ہو کہ وہ کتب موجود تو ہیں۔اتنی ہمارے پاس والے عیسائی انگریزوں کے نزدیک وہ کتابیں باغراض مختلفہ اور اسباب کشتی مشتبہ مقرر کی گئیں۔گو ہمہ کافی