فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 223 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 223

۲۲۳ اور منی ۱۹ باب ۲۸ میں صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہم کو بہ نسبت عیسائیوں کے زیادہ ملیں گی۔کیونکہ پچھلے پہلے ہونگے۔اور پہلے پچھلے۔دوم اتنے ہی اشارے سے صرف جسمیت حوران بہشتی کی ہرگنہ ثابت نہیں ہوتی۔غور کرو اور حد قبیل ۱۶ باب تمام و کمال پڑھو۔تمام نہیں تو صرف بچاپس آیت تک ہی سہی۔خدا یہ وسلم کو کہتا ہے تیرے باپ اموری اور تیری ماں جیتے تھی۔تیری ناف نہ کٹی۔تو نہ نہلائی گئی۔تجھ پر نمک نہ ملا گیا۔میں نے تجھے پالا۔تیری دونوں چھاتیاں طرح دار ہوئیں۔تیرا وقت تھا کہ جس میں عشق پیدا ہو۔تجھے غسل دیا روغن ملا۔بُوٹے دار کپڑے پہنائے۔تیری ناک میں نتھے۔کانوں میں بالیاں پہنائیں۔مہین میدہ چکنائی شہر تجھے کھلایا۔پھر تو نہ تا کار ہوئی۔تونے کسی خانہ بنایا۔تو نے بڑے جسم والے مصریوں سے زنا کیا وغیرہ وغیرہ۔پر تو سیر نہ ہوئی۔تو نے سڑک کے سے پر کسی خانہ بنایا۔سارے کسبیوں کو خرچی دیتے ہیں پر تو اپنے دھگڑوں کو ہدیہ دیتی ہے۔او زانیہ سُن تیسرے یاروں کو تیرا مخالف بناؤنگا۔وہ تجھے تنگی کر کے چھوڑیں گے تجھے سنگسار اور ٹکڑے کرینگے۔لوگ کہینگے جیسے ماں ویسے بیٹی۔" نہایت مختصر طور پر میں نے چند فقرے نقل کئے ہیں ذرا ان میں غور کرو پیر وسلم کی نسبت کو اعب اتراب وغیرہ الفاظ کس طرح موجود ہیں۔مکاشفات میں نئے پر ظلم کو یوحنا نے دلہن کے مانند دیکھا ہے۔مکاشفات یوحنا ۲۱ باب ۲ سوال - اِعْمَلُوا مَا شِثْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ۔کہ اہل بدر کو بڑی دلیری دی ہے۔جواب ایسا دلیری دینا تو کتب مقدسہ کا علی العموم معمول ہے۔پھر سیچی مقدس انجیل نبی عرب کا کلام ایسی انجیل نہ بنے۔اپنے الہامی اور روح القدس