فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 201 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 201

پیدا ہوا۔کیا ہے کہ صادق ٹھہرے۔۱۵ باب ۱۴- ایوب - پھر مریم جب بگناه مو روتی آدم گنہگار تھی۔تو مسیح کو کوئی پاک نہیں ٹھہر سکتا۔کون ہے جو نا پاک سے پاک نکالے۔کوئی نہیں۔ایوب ۱۴ باب۔اور پھر عیسائیوں میں تمام آدمی آدم کے گناہ سے گہنگار میں اور آدم کا گناہ عورت سے شروع ہوا۔تو مریم اور اس کا بیٹا کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ہوا۔تو اور کی پس گنہگار اگر الوہیت سے معزول نہیں تو منہ گار نبوت اور رسالت سے کیسے معزول سے معزول نہیں تو گنہ اور سے کیسے مع ہو سکتا ہے۔اور سنو ! کتب مقدسہ کا محاورہ ہے۔مورث اعلی کا نام لیکر قوم کو مخاطب کیا جاتا ہے۔دیکھو یثرون (یعقوب) موٹا ہوا۔اور اس نے لات ماری تو تو موٹا ہوگیا چربی میں چھپ گیا۔خالق کو چھوڑ دیا۔استثنا ۳ باب ۹-۱۵- یعقوب کو جیسی اُسکی روشیں ہیں۔سمراء بیگا۔۱۲ باب ۲۔ہوشیع۔یعقوب کو اُس کا گناہ اور اسرائیل کو اُس کی خطا جتاؤں۔میکه ۳ باب ۸۔یہ تو عہد عتیق کا محاورہ سنایا۔اب عہد جدید کو سنیئے۔اس نے تو حد کر دی ہے۔سنو سنو سنو۔مسیح نے ہمیں مول لیکر شریعت سے چھوڑایا۔کہ وہ ہمارے بدلے میں لعنت ہوا۔نامه گلتیان ۳ باب ۱۳- ۲ قرنتی ۵ باب ۲۱ - پس میں کہتا ہوں۔جب صاحب قوم قوم کے گناہ سے گنہگار کہا جاتا ہے اور جب قدم کو صاحب قوم کے نام سے مخاطب کیا جاتا ہے۔تو آپ ان آیات میں جن سے محمدؐ صلی اللہ علیہ وسلم کا گنہگار ہونا ثابت کرتے ہیں۔اس امر کو کیوں فرو گذاشت کئے دیتے ہیں۔با اینہم جن آیات سے آپ لوگ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت الزام قائم کرتے ہیں۔ان میں یقینی طور پر بلحاظ عربی بول چال کے اعتراض ہو ہی نہیں سکتا۔مثلاً سوچو آیت واسْتَغْفِرُ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنین میں ہم کہتے ہیں۔وَلِلْمُؤْمِنِينَ والا واو عطف فسیری کا واؤ ہے۔اور و او تفسیری خود قرآن میں موجود ہو۔دیکھو سور یا رعد -