فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 188 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 188

۱۸۸ جس آیت پر معترض کو دھوکا ہوا ہے۔وہ آیت یہ ہے۔وَاجْعَلُوا بُيُوتَكُو قِبْلَه - سیپاره - سوره یونس - مرکوع ۹ - - 4 کرتے اب اس کی تشریح سنو۔قبلہ ہو وہ جگہ تھی یا وہ قربانی کرتے تھے اور ص کی سی ادارے اور عبادت کرتے تھے۔دیکھو میزان الحق صفحہ ۲۲۔پھر یہ و سلم یہودیوں کا قربان گاہ اور عبادت گاہ تھا اور خدائے تعالیٰ وہاں اپنے تئیں ایسا ظاہر کرتا تھاکہ گویا اس جگہ میں رہتا تھا۔انجیل لوک ۲ باب اہم سے ۲۲ تک اُسکے (مسیح) ماں باپ ہر برس یہ فصیح میں پر وسلم کو جاتے تھے۔اور جب وہ بارہ برس کا ہوا ؤ سے عید فصیح کے دستور پر یروشلم کو گئے۔خروج ۳۴ باب ۲۳- اور استثناء باب او ۱۶ میں بھی ایسی ہی باتیں لکھی ہیں اب اس سے واضح ہو گیا کہ یہ نشانات اور یہ حقیقت قبلہ یہود کی تھی۔اب خروج ۱۲ باب ۳ سے ۷ تک اور ۲۲ سے ۲۴ تک دیکھ ڈالو۔اس میں لکھا ہے کہ اسرائیلیوں کے سارے گروہ سے یہ بات کہو کہ اس مہینے کے دسویں دن ہر ایک مرد اپنے اپنے گھر باپ دادوں کے گھرانے کے مطابق ایک بزد گھر پیچھے اپنے لیے ہے۔اور شام کو ذبح کرو۔اور اس کا چھا پا دروازے پر لگاؤ یہ ۲۳ میں ہے۔خدا وند در پر سے گزر کریگا۔اور ہلاک کرنے والے کو نہ چھوڑیگا کہ تمہارے گھروں میں آکے تمہیں مارے اور خداوند کا یہ بھی حکم تھا کہ گھر سے باہر نہ نکلیں اور سیر کنم ما خاندان بھی تھا کہ سے باہرن کے گھر کے اندر ہی ادا ہو۔یہ یہی مطلب قرآن کا ہے کہ گھروں کو قبلہ بناؤ۔یعنی یہ رسم گھروں ہی میں ادا کرو۔جواب۔اہل اسلام کے نزدیک قبلہ وہ جگہ ہے جہاں قتل کا امن ضروری ہو۔اور جس پر خاص خداوندی نظر ہو۔چنانچہ دیکھو بیت اللہ کی نسبت جو اہل اسلام کا قبلہ ہے قرآن میں حرما امنا وارد ہوا ہے۔اسلئے کہ وہاں قتل نفس حرام ہے اس طور پر بھی قبلہ کہنا صحیح ہو کہ اہے اور اپنے گھروں کو قبلہ بناؤ ۱۲۔