فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 166 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 166

144 کید یعنی داؤوں نہ چلایا ہمنے چلنے نہ دیا۔نظیر دیکھو حضرت ابراہیم کے واقعے میں جب دشمنوں نے اُن کو آگ میں ڈالا اور ٹھونک کر جلا دینا چاہا۔اور نصرت الہیہ سے جو ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کے شامل حال رہتی ہے۔حضرت ابراہیم اُن کے مکان اور شر سے محفوظ رہیے۔قرآن اس کو اس طرح پر بیان فرماتا ہے۔وَأَرَادُوا بِهِ كيدا لجعلمُهُمُ الأخسرين - سيارة ، سورة انبياء روعه اور کفار مکہ جس وقت اُس بنی نوع انسانی کے نیچے خیر خواہ، رؤوف و رحیم مادی و و محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایذارسانی کی تدابیر و فکر میں لگے ہوئے تھے۔قرآن کہتا ہے۔نهُمْ يَكيد من كيد او اكيد كيدا - سيارة - سورة طارق ركوع - غرض اسی طرح کسی واقعے کو بیان کرنا زبان عرب کا عموما اور قرآن خصوصا طرز ہے۔ٹھیک ایسا ہی اس آیت میں ہے جسپر اعتراض کیا گیا ہے کہ فرعون نے کہا یا انچو ہالی موالی سے مشورہ کیا کہ مومنین کے بیٹوں کو مار ڈالو۔مگر کسی وجہ سے اُس کا ارادہ یا قول یا مشورہ صورت پذیر نہ ہوا۔جیسے قرآن ان الفاظ میں بیان کرتا ہے کہ کفار کی تدابیر یا داؤں اکارت بہانے والا ہے۔یعنی وہ امر وقوع میں نہیں آیا۔بھلا پادری صاحبان ! اگر قتل والی بات غلط تھی تو کیوں بنی اسرائیل موسیٰ اور ہارون کو کہتے ہیں۔تم نے کیوں فرعون کے ہاتھ میں تلوار دی ہے کہ وہ سے ہم کو قتل کریں۔خروج ۵ باب ۲۲ - اعتراض مصنف الجواہر القرآن نے جو ایک عیسائی ہے آیت هُوَ الأَولُ والأخر والظاهر والباطن پر یہ اعتراض کیا ہو کہ قرآن نے خدا کا نام ظاہر یا تورت لے انہوں نے اس سے واؤں کرنے کا ارادہ کیا ہیں ہم نے انہیں کو لوٹا پانے والا کیا و ے وہ خفیہ داؤں بچارہے ہیں اور لیکن اُن کے داؤں کو باطل کرنے کے در پے ہوں ۱۲