فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 160 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 160

14 ھا ہو کہ یونان اور عرب کے علوم مصر سے اور منصر کے علوم ہند یا ایران سے اور بہتوں کا خیال ہو کہ مہند کے علوم بھی ایران سولائے گئے۔پھر اسلام کے ایسے زمانے میں پیدا ہوتا جبکہ مسلمانوں کے علوم اپنے اوج پر پہنچے ہوئے تھے۔مزید بر آن حضرت شیخ نے اپنے علوم کو سیاحت اور تجربہ زمانہ سے اور بھی جلادی تھی۔باایں ہمہ شیخ کی تحقیقات کا نتیجہ یہ ہے ان صلب آورد نطفه در شکم یا جسپر آجکل کی علمی دنیا ہنسی اڑاتی ہے۔ملک عرب میں بھی بالخصوص صلب و اصلاب ہی کا محاورہ دائر وسائر تھا۔اور یہیں تک اُنکے محدود ذہن کی رسائی تھی۔مگر قرآن کریم پہ قربان جائیے۔جو ہمیشہ ہر زمانے میں اپنی راستی اور صداقت دکھانے کو طیار ہے۔اور ابد تک رہیگا۔یہیں سو انسانی کلام اور الہی کلام کا تفرقہ معلوم ہوتا ہے لیئے اب قرآن کا مطلب سنیئے۔سر ہوتاہے حقیقی جواب فَلْيَنظُرِ الانْسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِنْ مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَرايب - سیپاره ۳۰ - سوره والسماء والطارق - ركوع۔کیا معنی کہ نطفہ صلب اور ترائی کے بیچوں بیچ سے آتا ہو۔صلب پیٹھ کی بڑی کو کہتے ہیں۔ترائب جمع ہے تریبہ کی۔سینے کی ہڈی۔اب خور کر و نطفہ اور متنی شریانی خون سے بنتی ہو اور وہ شہریان دل سے نکلتا ہو۔اور دل صلب و ترائب کے بیچوں بیچ ہے۔اور طرح پر مطلب اس آیت کا یہ ہو کہ باری تعالی متکبر انسان کی گردن معجب توڑنے کو اُسے اُس کی خلقت جسمانی منبع کی طرف توجہ دلاتا ہو۔اور چونکہ قرآن کلام الہی ہے اور یہ مجلس میں جوانوں، بوڑھوں، عورتوں میں پڑھا جاتا ہو اسلئے ضرور ہو کہ انسانی لے انسان کو چاہیئے۔وحیان کرے کہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہو۔پیدا کیا گیا ہے اُچھلتے پانی سے ہو پشت اور سینے کی ہڈیوں کے بیچوں بیچ سے ہو کو نکلتا ہے یا