فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 153 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 153

۱۵۳ اور کیوں نہ ہوں۔کفارے کے بیہودہ خیالی پلاؤ نے انکو گناہ سے بے ڈر کر رکھا ہے۔پادریوں نے آخر تین اعتراض اس قصے پر جمائے۔جب قصہ ہی سرے سے غلط ٹھیرا تو یہ نتیجہ کیونکر قابل التفات ہوگا۔۔ماریہ قبطیہ جب امر ولد بی بی ٹھیری تو زنا کیسا ہوش کی لو۔ماریہ قبطیہ جب ام ولد بی بی ٹھیریں تو قسمہ کیا اور قسم توڑنا کیا۔ماریہ قبطیہ جب ام ولد بی بی ٹھیر ہیں۔تو ناشائستہ فعل کیا۔معترض کہتا ہے قسم توڑنے کی آیت نازل کر لی قسم توڑنے کی کوئی آیت سورۂ تحریم میں نہیں اور نہ اسکے بعد کوئی قسم توڑنے کی آیت اتری۔ہاں قسم کے توڑنے اور پر کفارہ دینے کا قرآن میں سورہ مائدہ میں ذکر آیا ہے۔گھر یا د ر ہے سورہ مائدہ سورہ تحریم اُتری سے پہلے اتر کی ہے۔ہاں مجھے ضروری معلوم ہوتا ہے۔سورۂ تحریم کی پہلی چند آیت کی تفسیر لکھدروں۔يا أَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَ اللهُ لَكَ ، تَبْتَغِي مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ ، وَاللهُ غَفُورٌ رَحِيمُ قَدْ فَرَضَ اللَّهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ إِيْمَانَكُمْ- سيارة سوره تحریم رکوع آنحضرت صلعم نے اپنی بی بی زینب کے گھر میں شہد پیا۔عائشہ اور حصہ نے زینت پر غیرت کی اور رسول خدا سے عرض کیا۔آپکے منہ سے معافیر کی بو آتی ہے۔آپنے فرمایا کہ میں نے زینب کے گھر میں شہر پیا ہے۔اب پھر شہد نہ پیونگا۔یہ بات اسلئے کہی کہ جب عورتوں کو شہد کی بو سے نفرت ہے تو اسکا پینا کیا ضرور۔معاشرت میں نقص آتا ہے۔باری تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا۔حلال اشیاء کا ترک کرنا او را سپر حلف کرنا کیوں۔ایسے امور میں عورتوں کی رضامندی ضرور نہیں۔قسم سے بچ رہنے کیلئے سورہ مائدہ میں کفارے کا حکم ہوا پر عمل کروں اے اے نبی تو کیوں چھوڑے جو مال کی اللہ نے تجھ پہ چاہتا ہے رضا مندی اپنی عورتوں کی اور اللہ بخشنے والا ہے۔مہربان ٹھہرا دیا ہے الہ نے تم کو کھول ڈالنا اپنی قسموں کا ہیں