فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 149
۱۴۹ اِمْرَأَةٌ وَلَا كَبِيرًا فَانِيَّا وَلا مُنْعَراً بصومَعَةٍ وَلا تَقْرَبُوا فَخَلا وَلا تَقْطَعُوا شجر ا ولا تهدموا بناء عرض به فوج ظفر موج و ہاں به بنی اور موتہ کے لوگ مقابلے کو کھڑے ہوئے۔زید سپاں مارا گیا۔اور اسکی جگہ عبداللہ بن رواحہ مقدر ہوا۔پھر جعفر بن ابی طالب علی بن ابی طالب کے بھائی سپہ سالار ہوئے۔اُنکے نصف بدن میں انٹی سے زیادہ زخم تھے اور وہ سب آگے کی جانب۔پھر خالد بن ولید سپہ سالار ہوئے۔اور یہ تدبیر کی ہ میمنہ اور میسرہ اور سائق اور قدام کو بدل دیا۔دشمن نے سمجھا کہ ان کی مدد آگئی ہے۔غرض وہاں مخالف کو شکست ہوئی۔لڑائی میں مخالف ہر قل شاہ روم کے ماتحت تھے۔اسلئے عرب کی طرف روم کا خیال بڑھ گیا۔پہلے بھی وہ فتح عرب کے خواہاں تھے۔اب وہ خواہش دو بالا ہو گئی۔ہجرت کے نویں سال شام کے نجار سے خیبر ملی۔ہر قل ایک لاکھ سپاہ کے ساتھ حملہ آوری کی طیاری کر رہا ہو۔جب یہ خبر مدینے میں پہنچی۔ان دنوں بڑی گرمی پڑتی تھی۔آپنے جب کوچ کیا ر استے میں اونٹوں کے اوجھ سے پانی میسر ہوتا تھا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس جنگ میں ایک ہزار اونٹ مع ساز و سامان اور ستر گھوڑے اور دوسو او قئے چاندی کے بلکہ ہزار اشرفی کا چندہ دیا جس پر آپ نے فرمایا۔یعنی عثمان ا عمل بعد ہا۔اور ابوبکر رضی اللہعنہ نے اپنا تمام مال واسباب چار ہزار درد کا اور مرضی الد عنہ نے نصف مال دیا۔غرض اس جنگ میں عثمان رضی اللہ عنہ کی امداد تہائی لشکر کو کافی تھی منافقوں نے لوگوں کو بہت بہ کا یا۔الا خالص مسلمان جس قدر تھے وہ سب ساتھ ہولئے تھیں۔ہزار سپاہ آپ کے ساتھ تھی۔اور اسمیں دس ہزار گھوڑے تھے۔غرض آپ تبوک پہنچے۔المیہ کے رئیس نے ٹیکسی منظور کر کے صلح کر لی۔پھر آپنے خالد بن ولید کو دومتہ الجندل میری اور بچے اور عورت اور بڑھے اور عباد تھانے گوشہ نشینوں کو نہ مارو اور باغ کے نزدیک نہ جاؤ۔اور درخت نہ کاٹو۔اور مکانات کو نہ ڈھاؤ ۱٣