فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 148 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 148

اور آہستہ آہستہ وہ سب فتح ہو گئے۔آخر بڑا قلعہ القموس نام تھا۔اسپر لڑائی ہوئی۔جب وہ فتح ہوا یہود کو شکست کا یقین ہوگیا۔تب انہوں نے معافی مانگی۔اور انکی درخواست پر معافی دی گئی۔مگر اُن کی نیک کرداری کی ضمانت (کاسن دی پر سول جلد۲ صفحه ۱۹۳ و ۱۹۴) جائداد غیر منقولہ سے کی گئی۔اور رسومات مذہبی کی نسبت یہود کو آزادی دی گئی۔چونکہ کوئی باضابطہ ٹیکس اُن پر نہ تھا۔اور سلطنت کے خرچ میں شرکت اُن پر فرض نہ تھی۔آنحصر مسیحیم نے اُن کی حفاظت کے معاوضے میں جو اب اُن کو حاصل ہوئی۔ایک محصول بقدر نصف پیداوار انکی اراضی کے اُن پر مقر رکیا۔اور منقولہ جائداد جو لڑائی اور محاصرے کے بعد قلعوں سے نکل اور ضبط ہوئی۔وہ لشکر اسلام میں سپاہیوں کو قسم کیگئی۔پادریوں اور انکے مدلوگوں کی یہ روایت غلط ہے کہ کنانہ کو خزائن ودفائن بتانے کیلئے عذاب دیا گیا۔یہاں آنحضرت کو زہر دینے کا منصوبہ ہوا۔اور اس دغا باز قوم نے گوشت میں زہر ملا کر آپکو کھلانا چاہا۔اس دعوت میں ایک اصحابی اسی زہر سے مر گئے اور آنحضرت کو سے۔۔ہر کی بڑی تکلیف رہی۔مگر آپنے اس عورت کا جرم معاف کیا جس نے زہر دیا تھا۔غزوة تبوك - آنحضرت صلعم نے حارث بن عمر الازدی کو امیر بصری کے پاس ایک خط دے کے روانہ کیا۔جب یہ قاصد موتہ نام مقام پر پہنچا تو وہاں کے حاکم شرجیل نسانی عیسائی نے اس قاصد کو مار ڈالار یہ عیسائی صاحبوں کی تہذیب اور خاکساری ہے ) اس واقعے کی جب مدینے میں اطلاع ہوئی۔تو آپ نے زید بن حارث کو تین ہزار سپاہ کا افسر بناکر موت کی طرف روانہ کیا۔اور فرمایا جہاں حارث مارا گیا وہاں جاؤ۔اور یہ ارشاد فرمایا۔أوصيكم دَى اللهِ وَبِمَن مَّعَكُم مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا أَعْزو البِسْمِ اللهِ فِي سَبِيلِ اللهِ مَنْ كَفَرَ بِاللهِ لا تَخْدَرُ وا وَلا تَعْلُوا وَلا تَقْتُلُوا وليد اولا اے میں وصیت کر تا ہوں ہمکو اللہ کے ساتھ پر میز گاری کی اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ نیکی کرنے کی راہ خدا میں اللہ کے نام سے اُس شخص کے ساتھ لڑاو جر نے اللہ کے ساتھ کفر کیا ہے اور بیوفائی اور سرکشی نہ کرو۔الده