فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 136
اہل اسلام نے محاصرہ کیا۔جب پناہ گزین گھبرائے۔آپنے فرمایا۔جو کوئی قلعے سے اُتر آئے۔وہ آزاد اس عہد کے سنتے ہی بہت غلام اتر آئے۔جب ثقیف مسلمان ہو گئے۔تب انہوں نے اپنے یہ غلام طلب کئے۔الا رسول خدا نے فرمایا اب وہ آزاد ہو چکے ہیں۔غرض بعد چند ایام آپ نے دُعا کی اور فرمایا اللهُمَّ اهْدِ تَقِيفًا وَأَتِهِمْ مُسْلِمِينَ - الغرض نصف آخر رمضان میں وہ سب مسلمان ہو کہ مدینے میں پہنچے۔اور اسی لڑائی پر سکتے ہیں بلکہ عرب میں کفر کا خاتمہ ہوا اور اسکے ساتھ کفار قریش کی لڑائی کا بھی خاتمہ ہوا۔ان لڑائیوں میں کوئی آدمی جبر و اکرام مسلمان نہیں کیا گیا۔اگر کوئی شخص صحیح روایت سے ثابت کردے کہ زور سے کوئی متنفس مسلمان کیا گیا۔تو اُسے ہم دسہزار روپیہ انعام دینے کو طیار ہیں۔غزوات نبویہ جو یہود سے ہوئے۔دیکھو ابن ہشام جلدا صفحہ ۲۰۱ و ۲۰۴ و ۶۹ - و زرقانی جلد ا صفحه ۵۵۱ و ۵۵۳ - جلد ۲ صفحه ۱۰ و ۲۶۳ و ۱۲۵ - جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اہل مکہ کے بغض و عدا وایسے لگتے سے ہجرت کر کے حسب استدعائے اہل مدینہ مدینے میں تشریف لائے۔آپ اسوقت صرف واعظ ہی نہ تھے اور نہ مکن تھا کہ اس جنگجو ملک اور جاہل عصبیت والی قوم میں صرف واعظ بنگر اُنکے بد رسومات پر نکتہ چینی کر سکتے۔حال کی آزادی ممکن نہ تھی۔اور نیز آپکا گروہ با شکوہ مچھوں اور ٹوریوں کا مجمع نہ تھا۔ایک وحشی ملک میں نیادین اختیار کر کے بدوں اسکے کہ خود حفاظتی سامان کرتے کیا ممکن تھا کہ اپنے آپکو یا اپنے ہادی کو بچا سکتے۔حضرت بیج کی خاکساری، بردباری کو دیکھ چکے تھے۔اس بیچارے نے صرف اخلاقی تعلیم شروع کی۔اور ابتدائے پرائمری میں نا کامیاب دنیا سے چل بسا۔نہ نیز اسلامیوں کے باہمی تعلقات اور غیر قوموں سے معاملات اور اس ملک عرب میں نہ کوئی شخصی سلطنت اور نہ جمہوری انتظام کا نام۔پس آنحضرت کو واعظ ہونے کے سوا قاضی اور حاکم بننا پڑا۔اور انسانی فطرت کے لحاظ سے یہ امر نہایت ضروری تھا۔