فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 135 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 135

۱۳۵ جواب دیا کہ تم نے کوئی عہد شکنی کی ہے جوتم عہد کی تجدید چاہتے ہو۔ابوسفیان نے کہا معاذ اللہ ایسا نہ ہو۔تب آپنے فرمایا۔الحال سابقہ عہد و پیمان کو رہنے دو۔آخر ابوسفیان واپس لگتے کو چلا گیا۔ابوسفیان کے جانے کے بعد آنحضرت نے ایک سفیر کتے کو بھیجا۔اور حسب دستور ملک کہلا بھیجا۔نہیں نہیں بلکہ حسب قانون اخلاق کہلا بھیجا یا تو خزاعہ کے مقتولوں کا خون بہا دید یا بنو بکر کی جانبداری اور حمایت سے الگ ہو جاؤ۔یا حدیبیہ کی صلح کا عہد جو ہمارے اور تمہارے میان ہے اُسے پھیر دو۔اہل مکہ نے دیکھا۔اہل اسلام ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں اور اس نصرت ی اور امداد خداوندی کو بھول گئے۔ہو اسلام ہاں سچے اسلام کی ہمیشہ حامی و مددگار ہے۔صلح کا عہد پھیر دیا۔کیا معنے کہو یا حدیبیہ والی صلح جو ہمارے تمہارے درمیان تھی نہ رہی قطع عہد اور انکی بے ایمانی اور خزاعہ کے بدلہ لینے کے لئے آپنے سکے پر چڑھائی کی اور اس حملے میں وہ نرمی اور اخلاقی شریعت کی پا بندی کی جسکی نظیر دنیا میں مفقود ہے۔فرمایا۔ہو کوئی ابوسفیان کے گھر میں گھس جاوے اُسے امان جو کوئی اپنا پھاٹک بند کر لے اُسے امان جو کوئی مسجد میں چلا جا وے اُسے امان۔غرض فتح نہ ہوا۔اور کچھ بڑی خونریز کی ہاں ہ ہوئی۔اور کوئی حتما بر مسلما نہ کیا گیا جب کہ فتح ہو گیا۔خبرآئی ہوازن قوم اہل اسلام سے لڑنے کو اکٹھی ہوئی ہے اور اُن کا سب پالار مالک بن عوف نفری تھا۔جب انپر اسلامیوں کی چڑھائی ہوئی مسلمانوں کی بڑی بھاری جمعیت کو اپنی کثرت کا گھمنڈ ہوگیا۔اور اس خدا داد طاقت کو جس کا نامحر م اور احتیا ہے کمزور کر بیٹھے۔ہوازن قوم کے تیر اندازوں نے اچانک تیروں کی بوچھاڑ کردی۔اور کثرت کے گھمنڈیوں کا منہ پھیر دیا۔گر الہی نصرت اسلام کے شامل حال تھی۔بہت جلد تتر بتر ہوئے اٹھے ہو گئے۔اور یہ بیسواں غزوہ ہوازن کا فتح و غزنود عززه نصرت کے ساتھ ختم ہوا۔دشمن وہاں سے بھاگ اوطاس نام داری میں پہنچے۔اس لئے اکیسواں غزوہ اوطاس وقوع میں آیا۔اور ثقیف قومہ کے لوگ اوطاس سے بھاگ قلعہ طائف میں جمع ہوئے۔اسلئے بائیسواں غزوہ طائف قرار پایا۔اور قلعہ طائف کا غریب ہے عزوه