فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 134
۱۳۴ خزاعی کو چالیس آدمی کے ساتھ دینے کو حضور علیہ السلام کی خدمت میں روانہ کیا۔عمرو بن سالم نے آکر عرض کیا۔上 يارب إلى ناشد محمدًا حلت ابينا وابيه الاسللا ان قريشا الخلفوك الموحدا ونَقَضُوا مِينَاقَكَ الْمُؤكدا وَزَعَمُوا أَنْ لَسْتَ تَدْعُوا أَحَدًا فَانصُرُ هَدَاكَ اللهُ نَصْرًا ابدا وادْعُ عِبَادَ الله يَأْتُوا مَدَدًا فِيهِمْ رَسُولُ اللهِ قَدْ تَجَرَّدًا إن سِيمَ حَسْفا وجهة تريَّدَاهُ ونَا بِالْوَثِيرِ هُدًا لوقتَلُونَا رُكَعَاوَ سُجَدا لا زَعَمُوا أَن لَستُ ادْعُوا أَحَدًا ان واقعات اور پیچھے اقوال کو منکر آنحضرت نے فرمایا۔نصرت یا عمر و بن سالم ادمهر کفار کلمہ کو اپنے کرتوت کا جیسے ہر ایک گناہ کا نتیجہ افسوس ہوتا ہو۔افسوس ہوا اور پشیمان ہوئے۔ابوسفیان اپنے رئیس کو اس بدا فعالی کے ثمرات سے بچ رہنے کیلئے مدینے کو روانہ کیا ابوسفیان کو یقین تھا۔رسول خدا کو اب تک اس عہد شکنی کی خبر نہیں۔اسی خیال پر آنحضر ی سے کہا۔میں حدیبیہ کی صلح میں موجود نہ تھا۔اسلئے میں چاہتا ہوں کہ آپ عہد سابقہ کی تجدید کریں اور صلح کی مدت کو بڑھا دیں۔آنحضرت کی بد عہدیوں کو بارہا دیکھ چکے تھے اور خزاعہ کے مقابلے میں بنو بکر کی امداد خلات عہد صد یعید کی خبر عمرو بن سالمہ کے ذریعے پہنچ چکی تھی۔آپنے ابوسفیان کو ے اے میرے خدا میں محمد کو قسم دیتا ہوں۔قسم اپنے اجداد اور اس کے آبائے قدیم کی ، میر آمین قریشی نے تجھ سے وعدہ خلافی کی ہے اور توڑ دیا ان لوگوں نے تیرے وعدے مضبوط کو ، اور اُن لوگوں نے یقین کر لیا کہ تو سی کو نہیں کہا ہے تو درد را تجھ کو ہمیشہ کی نہر کی راہ دکھائے خلق خدا کو پکار وہ لوگ برابر بڑھتے آئیں گے۔ان لوگوں میں اللہ کا رسول تنہا ہوگیا ہے ؟ اگر زمین کے دھس جانے سے وہ لوگ مغلوب ہوئے تو اُن کا چہرہ متغیر ہوا۔انہوں نے ہم لوگوں پر سوتے میں و تیر پر شب خون ماراہ اور ان لوگوں نے ہم سبھوں کو رکوع اور نجد سے میں بلاک کیا۔انوار انہوں نے جا کہ ہم کسی کو نہیں مانتے ہے ۱۲