فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 133 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 133

۱۳ نکہ معظمہ کی زیارت کا قصد فرمایا۔جب حدیبیہ نامہ مقام میں پہنچے۔اہل مگر نے شہر مکہ میں جانے سے روک دیا۔آپنے فرمایا میں لڑائی کے لیے یہاں نہیں آیا۔غرض وہاں صلح ہوگئی اور صلح کے شرائط یہ ٹھہرے۔اب کی دفعہ مسلمان مدینے کو واپس جائیں اور سکتے میں داخل نہوں۔اگر مسلمانوں کو سال آئندہ میں بطور زیارت کتے کا آنا مطلوب ہو تو کھلے ہتھیاروں نہ آدیں۔اور تین دن سے زیادہ نہ ٹھیریں۔اگر کوئی مسلمان اسلام کا منکر ہو کر اہل مکہ سے ملانا چاہے تو اُسے آزادی ہے۔دین اسلام کو چھوڑ کر شرک اور کفر اختیار کرے۔اگر کوئی آدمی کف رنگی سے مسلمان ہو کر مسلمانوں سے ملنا چاہیے۔تو مسلمانوں پر ضرور ہو گا کہ اسے واپس کر دیں۔جس قوم کی مرضی ہو۔اسی وقت مسلمانوں کی طرف ہو جاوے۔اور جس کی مرضی ہو۔اہل مکہ کے ساتھ رہے۔اس شرط کے بعد پیغمبر خدا بدوں ادائے رسم عمرہ مدینے کو واپس چلے آئے۔بنو بکرنا قبیلہ قریش کے عقد و عہد میں ہوا۔اور خزاعہ اسلامیوں کے طرفدار بن گئے۔بنو بکر اور خزاعد ہیں با ہمہ مدت سے جنگ و جدال چلا آتا تھا۔اسلام کے پھیلنے اور اسلام کے نئے شغل نے ان دونوں قوموں کو لڑائی سے روک رکھا تھا۔جب اہل نگر اور اہل اسلام میں صلح ہوگئی۔تو اس جنگجو قوم کو نچلا بیٹھنا محال ہوگیا۔نوفل بن معاویہ بن نفاشت الدیلی بنو بکر میں سے ایک نامور پاہی تھا اس نے خزاعہ پر شب خون مارا۔خزاعہ کے لوگ اُسوقت بیخوف و خطر و تیر نام پیشے پر غافل پڑے تھے۔نوفل کے حملے سے چونک اٹھے۔اور لڑائی شروع ہوگئی۔بنوبکر ہٹتے ہٹتے حرم مکہ میں پہنچ گئے۔وہاں کفار مکہ نے پہلے اُن کی امداد ہتھیاروں سے کی۔جب اندھیرا ہوگیا۔بنو بکر کے ساتھ تشریک ہو گئے۔جب بنو بکر کو اہل مکہ کی مدد ہوگئی۔توخزاعہ قوم کمزور ہوگئی۔اور بدیل بن ور فاختہ ائی اور رافع کے گھر میں پناہ گزیں ہوئے۔مگر خزاعہ بیچارے صبح تک بہت مارے گئے۔صبح کے ہوتے ہی اپنی تباہ حالت کو دیکھ کر بھاگے۔اور آپنے مامن کو پہنچکر عمر بن سالم