فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 97
96 ٹوک تھی۔کیا بحرین والے عیسائیوں پر تشدد کیا گیا ہے کہ تم عیسائی مذہب کو ترک کرو۔کیا بیت المقدس کی فتح کے بعد حضرت عمر نے یروشلم کے یہودیوں اور عیسائیوں کو وہاں آباد ہونے نہیں دیا۔ہاں ایک قسم کا ٹیکس ایسی رعایا سے لیا جاتا تھا جسکو عربی زبان میں جو یہ کہتے ہیں اور وہ ٹیکس بھی نہایت خفیف درجے کا ہوتا تھا۔جس کا لگانا انھیں لوگوں کے امن اور چین کے لئے ضروری تھا مسلمانوں کی جائیں اور مال جس امن کے قائم رکھنے کیلئے خرچ ہوتے تھے۔اسی امین کے واسطے اسلام کے سوا دوسرے مذہب والوں سے چند پیسے لئے جاتے تھے۔یادداشت جز یرقتل کا بچاؤ نہیں تھا۔کیونکہ قتل کا بچاؤوا من صلح معاہدہ خال عن الجزیہ سے ہوسکتا تھا۔جز یہ تو ماتخت رعایا سے لیا جاتا تھا۔جنکی حفاظت کے ذمہ وار مسلمان ہوں۔مسلمانوں سے سخت ٹیکس۔سالانہ زکوۃ اور لڑائی کے وقت سامان جنگ لینے کا حکم۔اور مسلمانوں کے سوا اور مذاہب والے ان محاصل سے بری صرف اردو آنے دیگر آزاد ہو جاتے تھے۔ایک روپے کا مالدا مسلما کم سے کم ڈھائی ہزار روپ ہی کو ہے اور کافرین روپے کئی آنے اتنی ہی ملکیت پر۔پس جز یہ مسلمان بنانے پر رغبت نہیں دیتا۔بلکہ دنیا کی حقیقت والے کو اسلام سے مانع ہے۔(خلاصہ تقریر سید) ضروریات سلطنت اور امن کیلئے ہمیں ہندوستان کے ٹیکس اور محاصل جس وقت دکھائی دیتے ہیں، اُس وقت پادری صاحبان کے اعتراض پر تعجب آتا ہے۔اس زمانے میں ہر تہما کی فتح کا خرچ غریب ہندوستان پر۔اور اسکے خزائن اور دفائن اور منافع تجارت اور معتز از ترین نوکریوں کے فوائد اہل انگلستان کو حاصل ہیں۔رہا بادشاہان اسلام کا چال چلین جو انہوں نے ملک گیری اور فتوحات میں دکھلایا۔انہیں بعض کے حد سے بڑھ جانے کا اسلام ذمہ وار نہیں ہو سکتا۔اور اُن لوگوں کی رفتار اور کرد آرسے اصول اسلام پر حرف نہیں آسکتا کیونکہ انگلستان اور فرانس بلکہ یورپ کے بعض وحشی مزاج