فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 96 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 96

94 آپکو ایک لمبا چوڑا مضمون علیحد پنائیں گے۔قَالَتِ الْأَعْرَابُ امَنا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا و لكن قُولُوا أَسْلَمْنَا - وَلَمَّا يَد خلي الايمان في قلوبكم سوره حجرات سیپاره ۲۶ - رکوع ۲ - امانت تكره النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ - سوره یونس سیپاره رکوع ۱۵ من يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ تَوَلَّى فَمَا اَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حفيظاً - سوره نساء سياره ۵ - رکوع - ران احد من الْمُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَاجِرُهُ حَتَّى يَسْمَعَ كَلَامَ اللَّهِ ثُمَّ ابَلِعَهُ مَا مَنَة - ذلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْم لا يعلمون - سوره توبه - پاره ۱۰ - رکوع ۱ - جن لوگوں نے غلطی سے یہ بجھا ہو کہ اسلام تمام مذاہب میں ایسا سخت مذہب ہے کہ اپنے سوا دنیا کے ہر ایک مذہب کا تلوار سے استیصال کرتا ہو۔اور لڑائی اور زور سے دوسرے مذاہب کو باطل کرنا چاہتا ہے۔ران لوگوں کی غلط فہمی آیات مذکورۃ الصدر سے بالکل ظاہر ہے اور اسلام اور صاحب اسلام اور اُسکے جانشینوں خلفائے راشدین کے اس چال و چلن سے صاف آشکارا ہو کہ اسلام میں صلح یا فتح کے بعد رھایا اور صلح سازوں کو خواہ مخواہ مسلمان نہیں کیا جاتا۔کیا رسول خدا محمد مصطفے کے وقت خیبر کے باشندوں کو جو قسی القلب یہود تھے۔اپنے مذہب پر نہیں رکھا گیا۔اور یہودان خیر کے لیئے صلح کے بعد یہودیت پر عملدر آمد کرنے میں کوئی روک له اعراب نے کہا ہم ایمان لائے تو کہ کہ تم مومن نہیں ہوئے۔لیکن یولو کہ ہم فرمانبردار ہوئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا یہ ہے کیا تو راے محمد لوگوں کو مومن بھنے پر مجبور کرتا ہوں نہیں" سے ہر شخص رسول کی اطاعت کرے یقینا اس نے اس کی اطاعت کی اور جو پیٹھ پھیر سے اسکی توشی ہم نے تجھ کو اُن پہ نگاہیاں نہیں بھیجا ہے " ہے اور اگر کوئی مشرکین سے تیرے پاس پناہ چاہے اُسے پناہ دے کہ وہ خدا کا کلام کی لے پھر اُس کو اُس کی امن کی جگہ پہنچا دے اس لئے کہ وہ لوگ جانتے نہیں ہے צן