فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 71 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 71

اسراف اور حق تلفی اور غرور کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے۔وَاتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَلَا تُبَدِّرُ تَبْذِيرًا - إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ - سورۂ بنی اسرائیل - سیپاره ۱۵ - ولا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولا كل ذلك كَانَ سَيْتُه عِندَ رَتِكَ مَكْرُوها - سورة بنی اسرائیل سیپاره -۱۵ رکوع مسائل ذات و صفات باریتعالی اور توب او از کار او شر و شر کا ناک کو تعلیم قرآنی کو چند آیات کی تحریر پر ختم کرتا ہوں۔دیکھو آخر سورۂ فرقان۔عِبَادُ الرَّحْمَنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْنًا وَ إِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قالوا سلاما - والذين يبيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّداً وَ يَا مَا وَ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا اصْرِف هنا عذابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَا مَا إِنَّهَا سَاءَتْ مُسْتَقَرَّ أَو مُقَامًا - الَّذِينَ إِذَا انْفَقُو الم يسي قُوا وَلَمْ يَقْتُرُوا وَكَانَ بَيْنَ ذَلِكَ قَوَامًا - و الَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ الها اخر ولا يَقْتُلُونَ النَّفْس التي حرم الله نے اور دے رشتہ دار کو امر کا حق اور مسکین کو اور مسافر کو اور اسراف مت کہ اسراف والے شیطان کے بھائی ہیں۔ہے اور مت چل زمین پر اترانا۔تو پھاڑ نہ ڈالی گازمین کو اور نہ پہنچے گا پہاڑوں تک لمبا ہو کہ۔یہ جتنی باتیں ہیں۔اُن میں سب سے بری چیز ہے تیرے رب کی بیزاری ۱۲ ملہ اور بندے رحمن کے وہ جو چلتے ہیں زمین پر لیے پاؤں اور جب بات کریں ان سے بے سمجھ لوگ کہیں صاحب سلامت ۱۲ ے اور جودات کا مٹتے ہیں اپنے رب کے آگے سجد سے میں کھڑے اور وہ جو کہتے ہیں اسے رب ہٹا ہم سے دوزخ کا عذاب بیشک اس کا عذاب بڑی چٹی ہے وہ بری جگہ ہے ٹھہراؤ کی اور بری جگہ ہے رہنے کی ۱۲ کے اور وہ کر عجب خرچ کرنے لگیں نہ اڑا وہیں اور نہ تنگی کریں اور ہو اسکے بیچ ایک سیدھی گذران ۱۳ نے اور وہ جو نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ اور معبود اور نہیں خون کرتے جان کا جو کی اللہ نے مگر جہاں چاہیئے۔اور بدکار نہیں اور جو کوئی کرنے یہ کام بڑے گناہ سے دو نا ہو اسکو عذاب دن قیام کے دو پڑا ہے میں زمین -