فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 54
۵۴ موسی نے خود بہت سی بیبیاں کیں اور تحدید کا کوئی قاعدہ نہ فرمایا" و او د جو ہمیشہ خدا کی مرضی پر چلا۔اس نے سو کی تعداد کو جس طرح پورا کیا۔وہ حاجت بیان نہیں رکھتا۔بیٹے کو ابتدا ہی عروج میں دنیا سے چلنا پڑا۔اور جسقدر ہے۔حضور کو سر رکھنے کی جگہ نہ علی شادی کہاں کرتے۔رگوید- انو کا ۱۷ سکت ۱۰ - (۱۶) میں بہت سی کنواریوں کی اجازت صاف صاف ہوتی ہے۔(عورتوں سے سلوک) یورپ میں۔ہاں انگلستان میں کوئی عورت کوئی معاہدہ نہیں کر سکتی۔جائداد کی مالک نہیں۔نفقے کا دعوی کرے تو وہ دعلومی مسموع نہیں۔شوہر کے ایام مفارقت میں جو کچھ کمائے۔وہ سب کچھ شوہر کا زنا کی مجرم نہیں۔خیانت مجرمانہ میں مجرم نہیں۔مگر قرآن کہتا ہے۔ه يُحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهَا سُوره نساء - سیپاره ۴ - ولَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ - سورة بقر- سیپاره ۲ - الرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا التسبواو اليسا و نَصِيبُ مِمَّا النسان - سوره نسا ببارد دیکھو قرآن کیسی مساوات کرتا ہے۔اور پھر اس قدرتی فوقیت کو جو مردوں کو عورتوں پر سے کس لطافت سے بیان فرماتا ہے۔الرجال قوامون على النِّسَاءِ سُوره نساء سیپاره -٥ والرجالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةً سُوره بقر - سیپاره ۲ لے حلال نہیں تم کو میراث میں لے عورتیں زور سے ہے اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسا ان پر حق ہے یا سے مردوں کو حصہ ہے اپنی کمائی سے اور عورتوں کو حصہ ہے اپنی کمائی سے !! کے مرد حاکم ہیں عورتوں پر کا اور مردوں کو اُن پر درجہ ہے ۱۲