فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 38
۳۸ انفسهم الست بربكمْ قَالُ: ابْل شَهِدْ نَا أَن تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا مَن هذَا غُفِلِينَ سُوره اعراف - سیپاره ۹ - یعنی آدمی کو اللہ تعالیٰ نے آدمیوں سے بنایا۔اور آدمی میں ایسی عقل اور نفرت رکھی۔جس سے وہ اپنے رب کا قائل اور اپنے خالق کی ربوبیت کا اقرار ضرور کرتا ہے۔یہ اسلئے کہ محکمہ جیتا او سزا میں ایسا نہ کہدے کہ مجھے تو خیر نہ تھی۔من ظهور ھر کا ترجمہ۔اُن سے کیا گیا۔اسلئے کہ لخت کی کتابوں میں لکھا ہو۔بین اظهر عمر اے وسطھر۔اور کنت بین اظہرنا۔اسے پینتا۔اس آیت کا ذکر اسلئے کیا۔کہ اس آیت شریف سے کوئی روح کا قبل المجسد موجود ہونا نہ سمجھ لے۔آریہ یہ بھی کہتے ہیں۔نجات ہاں ابدی نجات کا اُسکے گھر میں کوئی سامان نہیں۔ارواح چند (چاہے اسے پچاس کلب کہیں بے دست و پا آرام دہ انعامات الہیہ سے محروم رہینگی۔اور یہی نجات ہے۔دنیوی عیش و آرام بھی بدکاری کا نتیجہ ہے۔ول تو اسلئے کہ من اور نجم میں آنا ہی عذاب ہے۔دوکم لوگ بد کار بنے۔لوگوں نے گناہ کیئے۔تو ہمارے لئے یہ گھوڑے۔ہاتھی۔نچر۔اونٹ پیدا ہو گئے۔تعجب آتا ہو۔یہ لوگ روح کو مکہ مختار) مانتے ہیں اور پھر کہتے ہیں زمین کو نجات کبھی صیب نہ ہوگی۔آریہ صاحبان ایک فاعل مختار کو جسے اپنے افعال میں اختیار ہو جس کا وجود تمہارے نزدیک ذاتی ہے۔کوئی خدا کا دیا ہوا وجود نہیں۔اُس کا سزا دینے والا خدا کیا تو۔کڑی اور رحیم و کریمی ہو سکتا ہے۔جب کسی مختار نے اپنے اختیار سے کام کیا اور ایک دوسرے نے اگر اس مختار کو سزا دی۔یہ سزا دینے والا منصف ہو سکتا ہے۔آریہ آؤ کینے اور بغض اور عداوت سے پاک و صاف ہو کہ ہماری ایڈا سے باز آؤ۔آؤ سری کتمان قادر طلق اند نیم لیس کمثلہ شی، دیالو رحیم کی عبادت کریں۔اسی کے آگے ہاتھ باندھیں۔اسی کے آگے سر جھکا دیں۔اُسی کے آگے گریں۔اُسمی کی استنتی (حمد) کریں۔اُسی سے دُعا ان میں جنسی نیست سے ہست بنا یا۔اپنے کمال قدرت سے ہاں قدرت ہی سے