فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 37 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 37

۳۷ حدثت ارواح نہ کہا۔ہم لوگ اور تمام دنیا روح کو حادث دیکھتی ہے۔صریح ہمارا مشاہدہ ہے زمین سے مٹی سے نباتات اُگے اُن سے غلہ پیدا ہوا۔اس کو حیوانات نے کھایا۔مثلاً انسان کے نر اور مادہ سے ایک جانب منی پیدا ہوئی یمن میں کیا کیا اجزا ہیں۔اور اس میں کیا کیا چیزیں ہیں۔یہ مقام اس تحقیق کا محل نہیں۔دوسری طرف مادہ میں مادہ کے رحم اور خصیہ الرحم میں بھی اسی غذا سے کسی قسم کی رطوبت پیدا ہوئی۔نر اور مادہ کی روح اور ہم یہ دونوں قسم کے حیوانی مواد نکلے۔نر اور مادہ کے فطری اور طبعی اتفاق سے رحم میں منی اور چند اجزا جو مادے سے حاصل ہوئے باہم ملے اور خاص طور پر جمع ہوئے۔اُس اجتماع سے ایک اور تیسرا انسانی شخص بننا شروع ہو گیا۔اس صریح مشاہدے سے واضح ہوتا ہے۔روح کہیں نر یا مادہ کے جسم ہی میں پیدا ہوئی اور یہ بات قریب قریب پھلدار اور پیوندی در نعتوں میں مشاہدہ ہوتی ہے۔اس صریح مشاہدے سے تو روح کا حدوث ثابت ہوتا ہے۔آریہ صاحبان اب قدم رُوح کی دلیل آپ بتائیے۔یہ بھی یادرکھنے کے قابل ہو۔نباتی اجزا حیوانی جسم میں کچھ ایسا عجیب تغیر پاتے ہیں کہ انکا ایک حصہ اس حیوان غذا کھانے والے کے جسم کے مشابہ ہو جاتا ہو۔اور کچھ حصہ بول و براز وغیرہ فضول ہو کر الگ ہو جاتا ہے۔غرض نباتی اجزا حیوان میں پہنچکر میوانی اجزاء بن بجاتے ہیں۔ناظرین یہ مقام اس بحث کے واسطے اجنبی ہے۔آپ میری اس تحریر کہ دیکھیں جس میں میں نے بہت سو احادیث صحیحہ اور آیات صریحہ قرآنیہ کا اس مسئلے میں بسط سرو کر گیا ہو اور بتایا ہے کہ اعتقاد و جو دروح بعد الجسد کے معارض کوئی نص صریح قطعی الدلالت نہیں۔اس بحث کو ابن قیم نے بھی کتاب الروح میں لکھا ہو۔اور وہ خلق روح بعد الجسد کا قائل ہوا ہے۔اور آیت وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِن بَنِي آدَمَ مِن ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمُ وَ أَشْهَدَهُمْ عَ ہے جب کی تیرے آپ نے اولاد آدم سے ان سے انکی اولاد اور گواہ کیا انکو ان کی جانوں پر کیا میں تمہارا رہے ہیں انہوں نے کہا بیشک ہم قائل ہیں۔کبھی کہو قیامت کے دن ہم کو اس کی خبر نہ تھی یا