فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 10 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 10

پیدایش نہایت مختصر سه سالہ تاریخ جس کو اناجیل اربعہ یا عہد جدید کہتے ہیں موجود ہجر ہمیں مسیح پر غور کرو۔کہیں ابن داؤد ہے۔کہیں ابنِ انسان کہیں ابن یوسف ہے۔کہیں ابن الله اگر عام قانون قدرت سے یہ پیدائیش نرالی ہے۔تو کیسی تاریک حالت میں ہوں۔کیا آچھا ہوتا۔اگر کسی مرد سے پیدا ہو جاتے مسیح کی موت کی بات سنیئے۔حاکم وقت قتل کا خواہا نہیں۔خون سے ہاتھ دھوتا ہو۔مئی ۲۷ باب ۲۴ چھوڑنا چاہتا ہے۔حاکم کی جو ر میسیج کی سپارشی ہے۔متی ۲۷ باب ۱۸ - ۱۹ - ایک دولتمند سیم کا حامی اور شاگرد حاکم کا قرب مسیح کی لاش مانگنے والا۔اور اپنے ہی طور پر قبر میں رکھنے والا۔قبر پر مٹی کی مہر بے ایمان یہود کو سبت کا دھندا پڑا ہے۔صوبے دار نسیح کا معتقد۔بھلا یقین نہیں ہو سکتا ہو۔کہ اُس بے گناہ کو اللہ تعالیٰ نے ان بدکاروں کی شرارت سے محفوظ رکھا۔دید کے مہم (اگر ویدوں کو الہامی کہیں کون تھے، کیسے تھے، کہاں تھے۔انکا پال چلن کیا تھا۔کب ہوئے۔کوئی کہتا ہے وید بر ہما کے پیار منہ سے نکلا تعلیم یافتہ گروہ کہتا ہما ہے (گو اُنکا کہنا صرف ایک شخص کی تقلید پر ہے، دید جنیر نازل ہوا ابتدائی زمانے کے چند آدمی پھر اُن کے حالات سے پوچھو۔تو چپ متشخص ہونے میں بھی کام ہو۔یہی حال زرتشت اور گر و صاحب کا ہو۔ایک سفر نامہ آپکا خوش اعتقادوں کے پاس ہے جس میں قاضی نظام الدین با رکن الدین کے سامنے لگے کا گر و صاحب کے پاؤں کی طرف پھر بیا تا لکھا ہو۔حالانکہ اس نام کے قاضی کبھی لگے میں نہیں ہوئے۔منصف آدمی کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات اور عادات پر غور کرنے سے اچھی طرح معلوم ہو سکتا ہو کہ آپکا دلی ارادہ کیا تھا یہ مقصود بالذات کیا امر تھا۔آپکے افعال اور اقوال سے بقدر مشترک اتنا تو ثابت ہے کہ آپ دیوانے اور کم عقل نہ تھے۔بھلا اتنا بڑا کام (عرب جیسے ملک سے بت پرستی کا استیصال کیا ایک کم عقل کا کام ہو۔خدا کے لئے ذرا ایر میا ۲ باب کو پڑھ لو کیا کہتا ہے۔قیدار میں جاکر خوب سوچو اور دیکھو۔ایسی بات