فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 154 of 455

فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 154

۱۵۴ قد فَرَضَ الله لكم تحلَّةَ أَيْمَا نِکھ میں فَرَضَ ماضی کا صیغہ ہے حال یا استقبال نہیں۔یہ زینب کا قصہ اور اسپرایت کا نازل ہونا۔بخاری مسلم وغیرہ حدیث کی اعلیٰ کتابوں میں موجود ہے۔اور قرآن کی تفسیر با خود قرآن سے با لغت عرب سے یا قرآن کی تفسیر صحیح احادیث سے تفسیر کا اعلیٰ درجہ ہے۔بعض مفسر لوگوں نے زینب کے بدلے میں ماریہ قبطیہ کا نام لیا۔الا ماریہ بھی رسول خدا کی بیبی ہیں۔اور ایک بیٹے کی ہاں اس بیٹے کی ماں ہیں جس نے لڑکپن ہیں انتقال کیا۔تب بھی کوئی حرج نہیں۔الا یہ مفسروں کا قول حدیث کے مقابلے میں التفات کے قابل نہیں بلکہ محققین نے ماریہ کے وجود پر بھی انکار کیا ہے۔اعتراض۔سورہ احزاب ۵ رکوع محمد صاحب نے اپنے لے پالک کی جو رو سے عشق کیا۔پھرلوگوں سے ڈرے تو ایک آیت اُتار لی۔جواب معترض نے عشق کا ثبوت تو کوئی نہ دیا۔لوگوں سو ڈرنا مقتضائے بشریت ہے حضرت مسیح بقول آپ کے باوجود الوہیت کے لوگوں (یہود) سے ڈرتے رہے اور حاکم کے سامنے حضرت سے کچھ بن نہ پڑا یسم و کم سے رو گئے۔بھلا صاحبان جس صبح کو کپڑے گئے۔اُس رات مسیح کی کیا حالت تھی۔متی ۲۶ - باب ۳۸ - اگر لے پالک کی جورو سے شادی منع ہے تو اس کا ثبوت تو ریت یا انجیل یا شرع محمدی (قرآن) سے یا دلائل عقلیہ سے دیا ہوتا۔بلکہ میں کہتا ہوں سارے عیسائی لیپالک بیٹے ہیں د نامہ رومیاں ، باب (۵) تو اب کیا وہ باہمی عقد میں بہنوں سے نکاح کرتے ہیں۔توریت میں بھی بہن سے نکاح حرام ہے۔اگر کہو وہاں حقیقی بین مراد ہے تو کیا دینی بہن سے نکاح جائز ہے۔پولوس صاحب فرماتے ہیں یہ کیا ہمیں اختیار ہے کہ دینی بہن۔نکاح کرلیں (قرنتی ۹ باب (۵) ہم کہتے ہیں اسی طرح حقیقی بیٹے کی بورو سے نکاح منع ہونہ لیپالک کی جو روسی جواب الزام