فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 98
۹۸ سنگدل بادشاہوں کی بداطواری خاکسار عیسومیت کو قابل ملامت ٹھہرا نہیں سکتی۔بیشک اسلام اور اہل اسلام - بانی اسلام اور اسکے جانشینان بریتی یعنی خلفائے راشہرین کے غزوات اور جہادات کے ذمہ وار ہیں۔اور انشاء اللہ تعالیٰ مضمون جہاد میں ثابت کردیا گیا کہ وہ سب دفاعی تھے۔یعنی خود حفاظتی پر اُن سب کی بنا تھی۔آخرین سرولیم میور کا یہ فقرہ لکھنا نا مناسب نہ ہوگا۔وہ لکھتے ہیں یہ گوشہ ملک نے بطوع ور ثبت آنحضرت کی عظمت کوتسلیم کرلیا مگر ابھی تمام باشندوں نے بھی اسلام قبول ہیں کیا تھا۔ایسا معلوم ہوتا ہو کہ آپکا شاید بینا ہو گا کہ اہل مکہ کو مدینے کے طور پر چھوڑ دیا جائے که رفته رفته خود بخود بلا اکراہ و اجبار اسلام میں داخل ہوتے جائیں گے " (لائف آف محمد از سرولیم میور جلد ۴ صفحه ۱۳۶) ہمیں کتب مغازی میں (خواہ کیسی ہی نا قابل وثوق کیوں نہ ہوں کوئی ایک بھی ایسی مثال نظر نہیں آتی۔کہ آنحضرت نے کسی شخص کسی خاندان کسی قبیلے کو بزور شمشیر و اجبار مسلمان کیا ہو۔ترولیم لیم میور صاحب کا فقرہ کیسا صاف صاف بتا تا ہو کہ شہر مدینے کے ہزاروں مسلمانوں میں سے رصاحب صاف ہوں کوئی ایک شخص بھی بزور و اکراہ اسلام میں داخل نہیں کیا گیا۔اور کتے میں بھی آنحضرت کا یہی رویہ اور سلوک رہا۔بلکہ ان سلاطین عظام محمود غزنوی سلطان صلاح الدین اورنگ ہیں؟ کی محققانہ اور صحیح تواریخ میں کوئی ایک بھی مثال نہیں ملتی کہ کسی شخص کو انہوں نے بالجبر مسلمان کیا ہو۔ہاں ہم اُنکے وقت میں غیر قوموں کو بڑے بڑے عہدوں اور مناصب پر ممتاز و سرفراز پاتے ہیں۔یس کیسا بڑا ثبوت ہو کہ اہل اسلام نے قطع نظر مقاصد کی کے اشاعت اسلام کیلئے کبھی تلوار نہیں اُٹھائی۔جهاد آنحضرت صلعم کے دشمنوں اسلام کے مخالفوں نے کار یعنی کیا ہو کہ آپکاوین بزور شمشیر شائع ہوا ہو۔اور تلوار ہی کے زور سے قائم رہا۔جن مورخین عیسائیوں نے آنحضرت صلعم کا تذکرہ - عالمگیری لڑائی اگر کسی ہندو راجہ سے ہوئی ہے تو اُسکی لڑائی تاناشاہ سے بھی ہوتی ہے جوک اور عالمگیری لڑائی اپنے باپ بھائیوں سے بھی ہوئی ہے۔اس عالمگیری جنگ مذہبی تنہاد نہ ہوئی ۱۳