فصل الخطاب لمقدمۃ اہل الکتاب — Page 95
۹۵ تحقیق اجبار واکراہ عیسائیوں کا اعتراض اکراہ اور جہر کے ذریعے سے غیر مذہب والوں کو محمدی بنانا اسلام کا خاصہ ہے۔جواب مخالف صاحبان یہ آپ کا محض افترا ہے۔اسلیئے کہ محمد یوں میں مومن اور محمدی سلمان بننے کے لئے یہ امر لازمی اور ضروری ہے کہ دل کے کمال خلوص سے باریتعالے کی توحید اور محمد صاحب کی نبوت اور قیامت وغیرہ باتوں پر پورا پورا یقین ہوا اور ظاہر ہے کہ جبر سے اور زور سے دلی اعتقاد پیدا نہیں ہوتا۔پس جبر سے محمدی مسلمان بنانا ممکن ہی نہیں۔قرآن کی آیات ذیل پر غور کرو۔صاف ظاہر کرتی ہیں کہ جبر واکر اسی محمدی مسلمان بنانا جائز نہیں۔پہلی آیت سورۃ بقر میں موجود ہے اور یہ سورت مدینے میں نازل ہوئی۔اس آیت میں یہ عذر بھی آپ نہیں کر سکتے کہ یہ آیت سلگتے میں اتری۔جبکہ اہل اسلام کمزور تھے۔اور جہاد کی آیتیں اترنے کا آنحضرت صلعم نے دعوی نہیں کیا اور یہ وہ سورت ہے جس میں قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ - سُوره بقره - سیپارہ ۲- رکوع ۲۲- کا حکم ہوچکا تھا۔وہ آیت جیس کا ذکر مجھے مطلوب ہے، اور جس میں واضح ہو کہ جبر اور کراہ اسلام میں جائز نہیں یہ ہے۔ا إكراه في الدِّينِ قَد تَّبَيَّنَ الرَّشْدُ مِنَ الْغَيِّ سُوره بقر سیپاره ۳ - رکوع ۳۳ - پادری صاحبان کیسے صاف طور سے قرآن نے اکراہ اور جبر کی نفی کی ہے۔اب میں چاہتا ہوں کہ آپکو قرآن کی بہت سی ایسی آیتیں سنا دوں جو سکے اور مدینے میں اُتری ہیں اور اُن میں جبر و اکراہ سے دین میں لانے کا ابطال موجود ہے۔جہاد کے مسئلے پر اے اللہ کے راستے میں انھیں لوگوں سوال و جوتی سو اڑاتے ہیں اور میسو پڑھنے جاؤ۔کیونکہ زیادتی کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا ہو کہ اسلام میں جبر نہیں ہے ہدایت اور گمراہی میں کھلا فرق ہو گیا ہے کیا