فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 71

نماز پڑھ سکتے ہیں؟ اے اسلامی عبادات اور مسجد میں جواب :۔اگر اس نے خلافت کا دعویٰ کیا ہے تو اس کے پیچھے نماز جائز نہیں الفضل ١٨ / مارچ ۱۹۱۶ء ) حج کے ایام میں غیر احمدی امام کے پیچھے نماز نا ناصاحب جناب میر صاحب نے فرمایا کہ حضرت خلیفہ امسیح کا حکم ہے کہ مکہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہئے۔حکیم محمد عمر صاحب نے بیڈ کر حضرت خلیفتہ اُسی کے پاس شروع کر دیا۔آپ نے فرمایا ہم نے ایسا کوئی فتویٰ نہیں دیا۔ہماری یہ اجازت تو ان لوگوں کے لئے ہے جو ڈرتے ہیں اور جن کے ابتلاء کا ڈر ہے۔وہ ایسا کر سکتے ہیں کہ اگر کسی جگہ گھر گئے ہوں تو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھ لیں اور آکر دہرا لیں۔(انوار العلوم جلد ۶۔آئینہ صداقت صفحه ۱۵۶،۱۵۵) سوال :۔آپ نے فرمایا کہ احمدی غیر احمدی کے پیچھے نماز وغیرہ نہ پڑھیں مگر جولوگ حج کے لئے جاتے ہیں وہ تو وہاں پر حج کی نماز تو دوسرے لوگوں کے پیچھے ہی پڑھتے ہوں گے۔اگر احمدی لوگ وہاں پر ان کے پیچھے ہی نماز پڑھتے ہیں تو اس طرح تو آپ کا فرمان پورا نہیں ہوتا ؟ جواب :۔نماز کے متعلق تو فقہاء کا مسئلہ ہے کہ نیت سے نماز ہوتی ہے۔اگر آدمی نیت کر لے کہ میں اپنی الگ نماز پڑھ رہا ہوں تو وہاں ساتھ شامل ہونے میں کیا حرج ہے۔یہ اجازت صرف حج کے لئے ہے اور نمازوں کے لئے نہیں۔دوسری نمازیں تو انسان گھر پر ہی پڑھ سکتا ہے۔حج صرف وہاں ہی ہوتا ہے۔( فائل مسائل دینی۔دفتر پرائیوٹ سیکرٹری) سوال :۔قراءت بالحجر والسر میں کیا حکمت ہے۔دن کی نمازوں میں قراءت مخفی اور رات کی نمازوں میں بالجبر کیوں پڑھی جاتی ہے؟