فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 32

نماز سے متعلقہ مسائل فلسفه نماز چونکہ نماز خدا تعالیٰ کی ملاقات کا ایک ذریعہ ہے اس لئے اسلام نے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ انسان تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خدا تعالیٰ کا نام لے اور نماز کے لئے کھڑا ہو جائے خواہ جنگ ہورہی ہو ، دشمن گولیاں برسا رہا ہو ، پانی کی طرح خون بہہ رہا ہو پھر بھی اسلام یہ فرض قرار دیتا ہے کہ جب نماز کا وقت آجائے تو اگر ممکن ہو مومن اسی وقت اللہ کے حضور جھک جائے۔بے شک جنگ کی وجہ سے نماز کی ظاہری شکل بدل جائے گی لیکن یہ جائز نہیں ہوگا کہ نماز میں ناغہ کیا جائے۔مگر آج کل مسلمانوں میں جہاں اور بہت سی خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں وہاں ان میں ایک نقص یہ بھی پیدا ہو گیا ہے کہ وہ ریل میں آرام سے بیٹھے ، سفر کر رہے ہوں گے مگر نماز نہیں پڑھیں گے اور جب پوچھا جائے کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے ؟ تو کہیں گے سفر میں کپڑوں کے پاک ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا اس لئے ہم نماز نہیں پڑھتے۔حالانکہ سفر تو الگ رہا میر اعقیدہ تو یہ ہے کہ اگر سر سے پیر تک کسی شخص کے کپڑے پیشاب میں ڈوبے ہوئے ہوں اور اس کے پاس اور کپڑے نہ ہوں جن کو بدل سکے اور نماز کا وقت آجائے تو وہ انہی پیشاب آلودہ کپڑوں کے ساتھ نماز پڑھ لے۔یا اگر پردہ ہے تو کپڑے اتار کر ننگے جسم کے ساتھ نماز پڑھ لے اور یہ پرواہ نہ کرے کہ اس کے کپڑے پاک نہیں، یا جسم پر کوئی کپڑا نہیں کیونکہ نماز کی اصل غرض یہ ہے کہ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خدا تعالیٰ کا نام لیا جائے اور اس طرح اس کی یاد کو اپنے دل میں تازہ کیا جائے۔جس طرح گرمی کے موسم میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد انسان ایک ایک دو دو گھونٹ پانی پیتا رہتا ہے تا کہ اس کا گلا تر رہے اور اس کے جسم کو طراوت پہنچتی رہے۔اسی طرح کفر اور بے ایمانی کی گرمی میں انسانی روح کو حلاوت اور تر و تازگی پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعدنماز مقرر کی ہے تا کہ وہ گرمی اس کی روح کو جھلس نہ دے اور اس کی روحانی طاقتوں کو مضمحل نہ کر دے۔(تفسیر کبیر۔جلد ہفتم سوره عنکبوت صفحه۶۵۰)