فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 381

۳۸۱ ناچ گانا ناچ گانا والذين لا يشهدون الزور زور کے معنی مجلس الغناء یعنی گانے بجانے کی مجلس کے ہیں۔اس لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ رحمن کے بندے گانے بجانے کی مجلس میں نہیں جاتے تا کہ اس کے زہر یلے اثرات سے وہ محفوظ رہیں اور خدا تعالیٰ سے غافل ہو کر ہوا و ہوس کے پیچھے نہ چل پڑیں۔اسی بناء پر میں نے اپنی جماعت کو ہدایت کی ہے کہ وہ سینمانہ دیکھا کرے۔کیونکہ اس میں بھی گانا بجانا ہوتا ہے جو انسانی قلب کو خدا تعالیٰ کی طرف سے غافل کر دیتا ہے۔پہلے یہ چیز تھیٹر میں ہوا کرتی تھی لیکن جب سے نا کی نکل آئی ہے سینما میں بھی یہ چیزیں آگئی ہیں بلکہ تھیڑ سے زیادہ وسیع پیمانہ پر آئی ہیں کیونکہ تھیٹر کا صرف ایک شو ہوتا ہے جس میں بڑے بڑے ماہر فن گویوں کو بلانا بہت بڑے اخراجات کا متقاضی ہوتا تھا جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے اور پھر ایک شوصرف ایک جگہ ہی دکھایا جا سکتا تھا۔مگر اب ایک شو سے ہزاروں فلمیں تیار کر کے سارے ملک میں پھیلا دی جاتی ہیں اور بڑے بڑے ماہرفن گویوں اور موسیقاروں کو بلایا جاتا ہے۔اس لئے تھیٹر سے سینما کا ضرر بہت زیادہ ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ گانا بجانا اور باجے وغیرہ یہ سب شیطان کا ہتھیار ہیں جن سے وہ لوگوں کو بہکا تا ہے مگر افسوس ہے کہ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی اس واضح ہدایت کو بھلا دیا اور وہ اپنی طاقت کے زمانہ میں رنگ رلیوں میں مشغول ہو گئے۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آخر انہیں اپنی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا۔سینما ( تفسیر کبیر جلد ششم - سورة الفرقان - صفحه ۵۸۵) موجودہ زمانہ میں جو لغویات پائی جاتی ہیں ان میں سب سے مقدم سینما ہے جو قومی اخلاق کے