فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 323 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 323

۳۲۳ معاملات رہے گی لیکن اس کے بعد وہ بہر حال شادی کرے گی اور جب وہ شادی کرے گی تو مہر والی صورت پیدا ہو جائے گی کیونکہ وصیت کی ایک شق یہ بھی ہے کہ اگر کوئی جائیداد آئندہ ثابت ہوگی تو اس پر بھی میری وصیت حاوی ہوگی۔ہاں اگر کوئی عورت یہ کہے کہ میں مرنے تک شادی نہیں کروں گی تو یہ درست نہیں ہوگا۔اگر خدانخواستہ ایسا حادثہ پیش آجائے کہ کوئی لڑکی وصیت کرنے کے بعد بغیر شادی کے فوت ہو جائے تو وہ چاہے ایک روپیہ وصیت میں لکھوائے۔ہم بہر حال اسے تسلیم کریں گے کیونکہ اس نے اپنے اخلاص کا ثبوت دیدیا۔ہمارا کوئی حق نہیں کہ اس کی وصیت کو ر ڈ کر دیں۔طالب علم کی وصیت ( الفضل ۲ ؍ جولائی ۱۹۵۸ء صفحه ۵) سٹوڈنٹ پر بھی چندہ واجب ہے۔خواہ پیسہ ماہوار ہو اور جو کچھ بھی کسی کے پاس ہواس کے حصہ کی وصیت ہوسکتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ مال نہیں دیکھتا بلکہ اخلاص دیکھتا ہے۔ورثه الفضل ۱/۲۹ اپریل ۱۹۱۵ء۔جلد ۲۔نمبر ۱۳۳) سوال :۔لڑکیوں کو ورثہ دینے کے بارہ میں سوال کیا کہ کیا ان (کو) جائیداد کی بجائے زیور کی صورت میں حصہ دیا جا سکتا ہے؟ جواب :۔فرمایا۔چونکہ قانون انگریزی لڑکیوں کو حصہ نہیں دلاتا۔اس لئے جب تک یا تو لڑکیوں کو حصہ دینے کا قانون نہ بن جائے یا احمدیت کی حکومت نہ قائم ہو جائے۔جہاں یہ خطرہ ہو کہ باپ کے مرنے کے بعد لڑ کے جائیداد میں سے بہنوں کو حصہ نہ دیں گے وہاں با قاعدہ حساب کر کے جتنا سہ بنے اتنے کا زیور دیدیا جائے تو کوئی بُری بات نہیں۔بلکہ اچھی بات ہے۔نیز حضور نے فرمایا۔شریعت نے باپ کی وصیت کے بعد اولا دکوترکہ کا وارث بنایا ہے اگر باپ