فرموداتِ مصلح موعود — Page 282
۲۸۲ حدود قائم ہیں اور حکما منسوخ ہیں۔یہ نہایت ہی خلاف عقل، خلاف دلیل اور خلاف آداب قرآنی ہے۔ہم اس مسئلہ کو ہرگز تسلیم نہیں کرتے۔ہمارے نزدیک اگر منسوخ آیتیں قرآن کریم میں موجود ہیں تو پھر سارے قرآن کا اعتبار اُٹھ جاتا ہے۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض لوگوں کو رجم کر نامحض یہودی تعلیم کی اتباع میں تھا۔لیکن اس کے بعد جب قرآن کریم میں واضح حکم آ گیا تو پہلا حکم بھی بدل گیا اور وہی حکم آج بھی موجود ہے جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے یعنی اگر کسی کی نسبت زنا کا جرم ان شرائط کے ساتھ ثابت ہو جائے جو قر آن کریم میں بیان ہوئے ہیں تو اسے سو کوڑے لگائے ہیں۔66 کوڑوں کی تشریح قرآن کریم نے بیان نہیں فرمائی لیکن قرآنی الفاظ یہ بات ثابت ہے کہ کوڑا ایسی طرز پر مارا جانا چاہئے کہ جسم کو اس کی ضرب محسوس ہو کیونکہ جلدة بالسياط “ کے معنی ہوتے ہیں ضربه بها واصاب جلدہ (اقرب ) یعنی کوڑے سے اس طرز پر مارا کہ جلد تک اس کا اثر پہنچا۔پس کسی چیز سے جس کی ضرب اتنی ہو کہ جسم محسوس کرے سزا دینا اور لوگوں کے سامنے سزاد بنا۔اس حکم سے ثابت ہوتا ہے خواہ وہ کوڑا چمڑے کا نہ ہو بلکہ کپڑے کا ہو۔یہ ضروری نہیں کہ وہ کوڑا وہی ہو جو جیسا کہ آج کل عدالتیں استعمال کرتی ہیں اور جس کی ضرب اگر سو کی حد تک پہنچے تو انسان غالبا مر جائے۔سورہ نساء کی آیت نے ثابت کر دیا ہے کہ ایسے کوڑے مارنے ناجائز ہیں جن کے نتیجہ میں موت وارد ہو جائے ایسے کوڑے مارے جاسکتے ہیں اور اتنی ہی شدت سے مارے جاسکتے ہیں جن سے انسان پر موت وارد ہونے کے کوئی امکان نہ ہو۔یعنی نہ تو کوڑا ایسا ہونا چاہئے جس سے ہڈی ٹوٹ جائے کیونکہ جلده بالسياط کے معنوں میں یہ بات داخل ہے کہ صرف جلد کو تکلیف پہنچے ہڈی کے ٹوٹنے یا اس کو نقصان پہنچے کا کوئی ڈر نہ ہو اور نہ ایسا ہونا چاہئے کہ اس کی ضرب سے انسان پر موت وارد ہونے کا کوئی امکان ہو۔یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں صرف زانی یاز انسیہ کا لفظ نہیں رکھا بلکہ الزانية