فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 280 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 280

۲۸۰ حدود کے طور پر دوسروں پر الزام لگائے جاتے ہیں اور قطعاً اس بات کی پرواہ نہیں کی جاتی کہ یہ کتنا بڑا گناہ ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کی کس قدر سزا مقرر کی ہوئی ہے۔ایسا الزام لگانے والے کے لئے خدا تعالیٰ نے اسی کوڑے سزا رکھی ہے جو زنا کی سزا کے قریب قریب ہے۔یعنی اس کے لئے سو کوڑے کی سزا ہے لیکن الزام لگانے والے کے لئے اسی کوڑے کھا لینے کے بعد بھی یہ سزا ہے کہ کبھی اس کی گواہی قبول نہ کرو۔پھر اس پر بس نہیں بلکہ سزا اور زیادہ آگے بڑھتی ہے اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایسا انسان خدا تعالیٰ کے حضور فاسق ہے اور جسے خدا تعالیٰ فاسق قرار دیدے اس کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ مومن اور متقی ہے یونہی خدا نے اس کا نام فاسق رکھ دیا ہے بلکہ اس میں یہ اشارہ مخفی ہے کہ الزام لگانے والا خود اسی بدی میں مبتلا ہو جائے گا۔کیونکہ خدا تعالیٰ بلاوجہ کسی کا نام نہیں رکھتا بلکہ جب بھی کسی کا کوئی نام رکھتا ہے تو اس کے مطابق اس میں صفات بھی پیدا کر دیتا ہے۔( تفسیر کبیر جلد ششم۔سورہ نور صفحه ۲۶۰ تا۲۶۲) زنا کی سزا سو کوڑے الزانية والزانى فاجلدوا كل واحد منهما مائة جلدة ( النور :٣) قرآن کریم کی اس آیت سے بالبداہت ثابت ہے کہ زانی مرد اور زانیہ عورت کی سزا ایک سو کوڑے ہے۔اور سورہ نساء میں آتا ہے کہ یہ سزا ان عورتوں اور مردوں کے لئے جو آزاد ہوں۔جو عورتیں آزاد نہ ہوں ان کی سزا بد کاری کی صورت میں نصف ہے یعنی پچاس کوڑے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فاذا أُحصِنَّ فان أتين بفاحشة فعليهن نصف ما على المحصنت من العذاب (النساء : ۲۶) یعنی جو عورتیں آزاد نہ ہوں دوسروں کے نکاح میں آجائیں تو اگر وہ کسی قسم کی بے حیائی کی مرتکب ہوں تو ان کی سزا آزاد عورتوں کی نسبت نصف ہوگی۔اس آیت سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ مقرر سزا ایسی ہے جو نصف ہو سکتی ہے اور سو کوڑوں کی نصف پچاس کوڑے بن جاتی ہے۔