فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 224 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 224

۲۲۴ نکاح کھانا لا کر ولیمہ والے گھر میں بیٹھ کر کھا لیں اور ایک آدمی کا کھانا اس کے گھر والے کی طرف سے بھی ہو جائے۔( تفسیر کبیر جلد ششم۔سورۃ الفرقان - صفحہ ا۵۷۲۵۷) آج کل بڑی شان وشوکت سے ولیمے کئے جاتے ہیں خواہ اپنی حیثیت اس کے ولیموں کو برداشت نہ کر سکتی ہو۔دیکھ لورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع کے لئے کیا حکم دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔اولم ولو بشاة بخارى كتاب النكاح) کہ ایک بکری ذبح کر کے ولیمہ کر دو اور لوگوں کو کھانا کھلا دو۔(خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۵۰۱٬۵۰۰) میرے نکاح کے موقع پر دفتر والوں نے مجھے فون کیا کہ مٹھائی دیں مگر میں نے کہا کہ یہ جائز نہیں۔یہ چند روپوں کا سوال نہیں بلکہ شریعت کے احترام کا سوال ہے۔شریعت نے ولیمہ رکھا ہے۔اس کے سوا اور کچھ نہیں۔اس لئے مٹھائی وغیرہ کو جائز نہیں سمجھتا۔ایسی باتیں قوم کے لئے نقصان کا موجب ہو جایا کرتی ہیں۔جب ایک شخص مٹھائی کھلاتا ہے تو پھر دوسرے بھی اس کو ضروری سمجھنے لگتے ہیں اور پھر ہر ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ولیمہ تین دن ہے اس کے بعض لوگ یہ معنی بھی کرتے ہیں کہ ولیمہ تین روز کے اندر اندر ہوسکتا ہے۔یعنی اس عرصہ کے اندر اندر کر دیا جائے مگر دوسرے معنے یہ بھی ہیں کہ دعوت ولیمہ تین روز سے زیادہ ممتد نہیں ہونی چاہئے۔اس دعوت ولیمہ کو اور بڑھائے جانے اور پھر مٹھائیاں وغیرہ تقسیم کرنا یہ سب بدعات ہیں جن سے پر ہیز لازم ہے۔الفضل ۱۲ جون ۱۹۶۰ء) لڑکی کی شادی پر دعوت کرنا بدعت ہے الفضل میں کچھ عرصہ سے شادی کی تقریبوں کا ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ ہوتے ہیں کہ فلاں