فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 187

۱۸۷ نکاح لڑکا لڑکی ماں باپ کے مشورہ سے شادی کریں اسلام نے لڑکے لڑکی کو آزادی دی ہے شادی کے بارے میں ،مگر اس کے ساتھ ایک عجیب بات بھی رکھی ہے اور وہ یہ کہ لڑکا ہو یا لڑ کی ماں باپ کے مشورہ سے شادی کریں۔اگر بغیر مشورہ کے شادی کرے تو ماں باپ کو اختیار ہے کہ اسے کہیں طلاق دے دیں اور لڑکے کو اس کی تعمیل کرنی چاہئے تو لڑکے کو مشورہ کرنے کا پابند قرار دیا ہے لیکن اگر ماں باپ بضد ہوں اور بغیر کوئی نقص اور خطرہ بتائے زور سے روکیں تو لڑکا کر سکتا ہے۔ہاں اسے یہ حکم ہے کہ والدین کی خواہش کو جہاں تک ممکن ہو پورا کرے۔مگر جب یہ سمجھے کہ ایسا کرنا اس کے لئے مضر ہے تو شادی کر لے۔اگرلڑ کا ماں باپ سے پوچھے بغیر شادی کرے تو وہ اسے طلاق دینے کا حکم دے سکتے ہیں۔اس میں حکمت یہ ہے کہ ماں باپ اس تعلق کو اور نظر سے دیکھتے ہیں اورلڑکا اور نظر سے دیکھتا ہے۔لڑکے کے سامنے حسن ، جذبات اور شہوات یا اور معاملات ہوتے ہیں لیکن ماں باپ کے مدنظر لڑکے کا آرام اور اس کا فائدہ ہوتا ہے۔اس لئے شریعت نے رکھا ہے کہ والدین سے اس بارے میں مشورہ کیا جائے تاکہ ان کے مشورہ سے مفید باتیں اس کے سامنے آجائیں جن پر وہ اپنے جذبات کی وجہ سے اطلاع نہیں پاسکتا تھا۔لیکن اگر وہ اپنے لئے مفید سمجھے تو ماں باپ کی رضا مندی کے بغیر بھی شادی کرسکتا ہے۔ا غرض شریعت نے اس پر بڑا زور دیا ہے کہ سوچ سمجھ کر شادی کرنی چاہئے خواہ مرد ہو خواہ عورت۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ولتنظر نفس ما قدمت لغد (الحشر : ١٩) وہ دیکھ لے کہ کل اس کے لئے کیا نتیجہ نکلے گا تو لڑکے اور لڑکی کو خود شادی کے متعلق غور و فکر سے کام لینا چاہئے۔جس کا اسلام نے انہیں حق دیا ہے۔لیکن شائد بھی یہ با تیں خواب ہیں اور ایسی خواب جس کی تعبیر آئندہ زمانہ میں نکلے گی تاہم ہمارا فرض ہے کہ ان کی طرف توجہ دلائیں خواہ وہ زمانہ جلد آئے یا بدیر۔(خطبات محمود جلد ۳ - صفحه ۲۵۲ ۲۵۳)