فرموداتِ مصلح موعود — Page 169
روزه کے لئے اجازت ہے کہ وہ تیم کرے لیکن کسی کی بیماری اس قسم کی ہو کہ وضو کرے تو اسے فائدہ ہوتا ہو۔تو با وجود بیمار ہونے کے اس کے لئے تیم جائز نہیں ہو گا۔اسی طرح وہ بیماری کہ جس پر روزہ کا کوئی اثر نہیں پڑتا اس کی وجہ سے روزہ ترک کرنا جائز نہیں ہوگا۔بیماری سے مراد وہی بیماری ہوگی جس کا روزہ سے تعلق بھی ہو اور ایسی حالت میں خواہ بیماری کتنی خفیف کیوں نہ ہو اس میں مبتلا روزہ ترک کر سکتا ہے کیونکہ جب روزہ کا مضر اثر اس بیماری پر پڑتا ہے تو وہ بڑھ جائے گی۔پس جس مرض پر کہ روزے کا بداثر پڑتا ہو خواہ وہ نزلہ ہی ہوایسے مرض میں خواہ وہ خفیف ہی ہو روزہ رکھنا جائز نہیں اور اگر کوئی روزہ رکھے تو اس کا روزہ نہیں ہوگا۔بلکہ اس کے بدلے اس کو پھر روزہ رکھنا پڑے گا۔(الفضل (۱۱ارا پریل ۱۹۲۵ء نمبر ۱۱۳) قیام رمضان ا۔قیام رمضان جسے عوام الناس تروایح کہتے ہیں کوئی الگ نماز نہیں وہی تہجد کی نماز ہے جسے متقی مسلمان بارہ مہینے پڑھتے ہیں۔ہاں رمضان میں زیادہ اہتمام کرتے ہیں۔اول طریق یہ ہے کہ تہجد اپنے اپنے گھروں میں پڑھیں۔ب لیکن عام طور پر یہی مناسب ہے کہ اگر کوئی حافظ میسر ہو تو سحری کھانے سے پہلے پچھلی رات با جماعت ادا کر لیں۔کیونکہ بعض لوگ اکیلے اکیلے پڑھنے میں سستی کرتے ہیں۔ج اگر پچھلی رات نہیں پڑھی جاسکتی تو عشاء کی نماز کے بعد نماز پڑھ لیا کریں۔حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں صحابہ کو ایک امام کے پیچھے جمع کر دیا۔د مگر آج کل جو رسم کے طور پر تراویح پڑھی جاتی ہے اس سے حتی الوسع احتر از لازم ہے۔ه ارکعت مع وتر