فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 168

۱۶۸ روزه جس طرح وہ شخص گنہ گار ہے جو بلا عذر رمضان کے روزے نہیں رکھتا۔اس لئے ہر احمدی کو چاہتے کہ جتنے روزے اس نے کسی غفلت یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے نہیں رکھے وہ انہیں بعد میں پورا کرے یا اگر اس کے کچھ روزے غفلت یا کسی شرعی عذر کی وجہ سے پانچ چھ سال سے رہ گئے ہوں تو وہ انہیں بھی پورا کرے تا عذاب سے بچ جائے۔یہ کوئی بڑی قربانی نہیں بلوغت کے زمانہ کے بعد کے جتنے روزے رہ گئے ہوں وہ بڑھاپے سے پہلے پہلے پورے کرنے چاہئیں محض اس قرضہ کے زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ انہیں نظر انداز نہیں کر سکتا اور نہ پچھلے روزے معاف ہو جاتے ہیں۔اگر بیماری کی سہولت سے فائدہ اُٹھایا تھا تو اسے چاہئے کہ اپنے چھوٹے ہوئے روزے پورے کرے۔سارا سال ہی اس کی یہ حالت نہیں رہتی کہ وہ روزے نہ رکھ سکے۔کوئی نہ کوئی زمانہ ایسا آتا ہے جب انسان روزے رکھ سکتا ہے اگر وہ گرمیوں میں روزے نہیں رکھ سکتا تو سردیوں میں رکھ لے۔بعض فقہاء کا یہ خیال ہے کہ پچھلے سال کے چھوٹے ہوئے روزے دوسرے سال نہیں رکھ سکتے لیکن میرے نزدیک اگر کوئی لاعلمی کی وجہ سے روزے نہ رکھ سکا تو لاعلمی معاف ہوسکتی ہے۔ہاں اگر اس نے دیدہ دانستہ روزے نہیں رکھے تو پھر اس پر قضاء نہیں۔لیکن اگر بھول کر روزے نہیں رکھے یا اجتہادی غلطی کی بناء پر اس نے روزے نہیں رکھے تو میرے نزدیک وہ دوبارہ رکھ سکتا ہے۔(الفضل ۸ مارچ ۱۹۶۱ء) روزہ کس حالت میں چھوڑا جاسکتا ھے روزہ ایسی حالت میں ہی ترک کیا جا سکتا ہے کہ آدمی بیمار ہواور وہ بیماری بھی اس قسم کی ہو کہ اس میں روزہ رکھنا مضر ہو کیونکہ شریعت کے احکام بیماری کی نوعیت کے لحاظ سے ہوتے ہیں مثلاً ایک بیمار