فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 91

۹۱ اسلامی عبادات اور مسجد میں بدی ہے مگر بدعت جو ہوتی ہے وہ بدی نہیں ہوتی۔وہ عبادات اور اعمال نیک ہی ہوتے ہیں۔مگر جب ان کو شریعت کا خاص حکم یا عمل قرار دیا جاتا ہے تو وہ گناہ ہو جاتے ہیں۔میرا مطلب یہ ہے کہ جتنی بدعتیں ہیں وہ ثواب ہی کی نیت سے کی جاتی ہیں مگر وہ نیکی نہیں ہوتیں مثلاً خیرات کرنا نیکی ہے لیکن ایسے طریق پر تقسیم کرنا کہ وہ ایک مسئلہ بن جائے اور وہ شریعت کا مسئلہ نہ ہو بدعت ہو جاتا ہے۔جو کام نیکی کی غرض سے کیا جاتا ہے مگر شریعت اس کا حکم نہیں دیتی وہ بدعت ہے۔کھانا وقت مقرر کر کے خاص طریقہ پر کھلانا بدعت ہے مگر دوستوں کی دعوت نہیں۔کیونکہ بدعت وہی ہے جو ثواب کی نیت سے نیکی سمجھ کر کوئی کرتا ہے اور جس کام میں خواہ کوئی دنیاوی فائدہ ہو یا نہ ہو بلکہ یونہی اس کا کرنا لازمی سمجھتا ہے وہ رسم ہے اور رسموں کو بھی اسلام مٹانا چاہتا ہے کیونکہ یہ ایسی قیدیں پیدا کرتی ہیں جو منع ہیں۔الفضل ۲۳ را کتوبر ۱۹۲۲ء۔جلد ۱۰ نمبر ۳۲) غیر احمدی والدین کے لئے دعا مغفرت سوال :۔ایک شخص نے دریافت کیا کہ اگر غیر احمدی ( جسے دعوت پہنچی اور اس نے قبول نہ کیا ) والد کے لئے دعائے مغفرت نا جائز ہے تو میں رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ چھوڑ دوں؟ جواب :۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے جواب لکھا کہ والد میں تو باپ دادا بھی آسکتے ہیں۔نام نہ لیا جائے اور یہ دعا نہ چھوڑی جائے۔الفضل ۱۶ / مارچ ۱۹۱۵ء نمبر ۱۱۴) سوال :۔کیا غیر احمدی متوفی والدین کے لئے نماز میں دعائے مغفرت جائز ہے؟