فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 90

اسلامی عبادات اور مسجد میں ڈالتی ہو جس کا اثر دنیا پر ایک لمبے عرصہ تک رہے اور جس کی وجہ سے نیک اور شریف لوگ متواتر فوائد حاصل کریں۔یا کم سے کم ان کے راستہ میں کوئی روک نہ پیدا ہوتی ہو۔5۔پانچویں یہ کہ دعا میں اللہ تعالیٰ کی صفت ملک یوم الدین کا بھی خیال رکھا گیا ہو یعنی دعا کرتے وقت ان ظاہری ذرائع کو نظر انداز نہ کر دیا گیا ہو جو صحیح نتائج پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے تجویز کئے ہیں کیونکہ وہ سامان بھی اللہ تعالیٰ نے ہی بنائے ہیں اور اس کے بنائے ہوئے طریق کو چھوڑ کر اس سے مدد مانگنا ایک غیر معقول بات ہے۔گویا جہاں تک وہ موجود ہوں یا ان کا مہیا کرنا دعا کرنے والے کے لئے ممکن ہو ان کا استعمال بھی دعا کے وقت ضروری ہے۔6۔چھٹا اصل یہ بتایا ہے کہ ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ سے کامل تعلق ہو اور اس سے کامل اخلاص حاصل ہو اور وہ شرک اور مشرکانہ خیالات سے کلی طور پر پاک ہو۔7۔اور سا تو میں بات یہ بتائی ہے کہ وہ خدا کا ہی ہو چکا ہو اور اس کا کامل تو کل حاصل ہو اور غیر اللہ سے اس کی نظر بالکل ہٹ جائے اور وہ اس مقام پر پہنچ جائے کہ خواہ کچھ ہو جائے اور کوئی بھی تکلیف ہو مانگوں گا تو خدا تعالیٰ ہی سے مانگوں گا۔( تفسیر کبیر جلد اول صفحه ۶،۵) درس قرآن کریم کے بعد دعا سوال :۔درس قرآن کریم کے بعد دعا کرنا بدعت تو نہیں؟ جواب:۔فرمایا۔ہر روز درس کے بعد دعا کرنا یہ کوئی مسنون طریق نہیں۔ہاں اگر قرآن کریم ختم ہو یا کوئی اور خصوصیت ہو یا کوئی خاص موقع اور ضرورت ہو تو دعا کرنا جائز ہے۔سوال:۔اس پر ایک صاحب نے عرض کیا۔کیا درس کے بعد ہر روز دعا کرنا گناہ ہے؟ جواب : فرمایا۔جتنی بدعتیں ہوتی ہیں وہ نیکیاں ہی سمجھی جاتی ہیں۔کنچنیاں نچانا بدعت نہیں بلکہ