فرموداتِ مصلح موعود — Page 56
۵۶ اسلامی عبادات اور مسجد میں تو کیا تم بھی منہ میں پڑھتے رہتے ہو۔بعض نے کہا ہاں بعض نے کہا نہیں۔اس پر آپ نے فرمایا لاتقرءوا بشيء من القرآن اذاجهرت الابأم القرآن۔(ابوداؤد کتاب الصلوۃ باب من ترك القراءة في صلوته ) جب میں بلند آواز سے قرآن کریم نماز میں پڑھوں تو سوائے سورۃ فاتحہ کے اور کسی سورۃ کی تلاوت تم ساتھ ساتھ نہ کیا کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ بھی یہی ہے کہ سورۃ فاتحہ امام کے پیچھے بھی پڑھنی چاہیئے۔خواہ وہ جہر نماز پڑھ رہا ہو۔سوائے اس کے کہ مقتدی رکوع میں آکر ملے۔اس صورت میں وہ تکبیر کہہ کر رکوع میں شامل ہو جائے اور امام کی قراءت اس کی قراءت سمجھی جائے گی۔یہ ایک استثناء ہے۔استثناء سے قانون نہیں ٹوٹتا۔اسی طرح یہ بھی استثناء ہے کہ کسی شخص کو سورۃ فاتحہ نہ آتی ہومثلا نومسلم ہے جس نے ابھی نماز نہیں سیکھی یا بچہ ہو جسے ابھی قرآن نہیں آتا تو اس کی نماز فقط تسبیح و تکبیر سے ہو جائے گی۔خواہ وہ قرآن کریم کا کوئی حصہ بھی نہ پڑھے۔سورۃ فاتحہ بھی نہ پڑھے۔جهراً بسم اللہ پڑھنا ( تفسیر کبیر جلد اول۔سورہ فاتحہ صفحہ ۷ تا ۹) سوال :۔بخاری اور مسلم کے علاوہ دوسری کتابوں میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بسم اللہ الرحمن الرحیم جہراً پڑھا کرتے تھے۔امام شافعی کا مشہور مذہب یہی ہے کہ انها آية في كل سورۃ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فیصلہ بھی یہی ہے کہ بسم اللہ ہر سورۃ کی مستقل آیت ہے۔مولوی عبدالکریم بھی جہر پڑھا کرتے تھے۔اس اختلاف کو دیکھتے ہوئے میں مناسب خیال کرتا ہوں کہ حضور سے استصواب کرلوں۔اگر حضور جہراً بسم اللہ پڑھنے میں کوئی حرج خیال نہیں فرماتے تو جہراً پڑھوں ورنہ چھوڑ دوں؟