فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 39 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 39

۳۹ نماز سے متعلقہ مسائل یہ کہ بکلی نماز کا تارک ہو۔جو شخص جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی کوشش نہیں کرتا اور ہر ایک نماز اس کی جماعت سے رہ جاتی ہے اور اس کے لئے سخت دکھ اور صدمہ کا باعث نہیں ہوتی اس شخص کے دل میں در حقیقت اسلام داخل ہی نہیں۔اس کا ظاہری علاج نصیحت ہے اور وعظ ہے اور باطنی علاج دعا ہے جو اس سے بھی نہ سمجھے خلیفہ وقت سے اجازت لے کر اسے اپنی جماعت سے الگ سمجھنا چاہئے۔نماز اسلام کا ایک رکن ہے فوج میں لنگڑے آدمی نہیں رکھے جاسکتے۔نماز میں خیالات کا پیدا هونا الفضل ۲۰ جنوری ۱۹۲۱ء) سوال :۔ایک صاحب نے عرض کیا کہ نماز میں اگر مختلف خیالات پیدا ہوں تو کیا کیا جائے؟ جواب :۔خیالات پیدا ہوں تو ان کا مقابلہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ تم جب نماز کے لئے کھڑے ہو تو یہ سمجھو کہ تم اپنا فرض ادا کر رہے ہو اگر تمہیں خشوع و خضوع نصیب ہو جائے تو یہ خدا تعالیٰ کا انعام ہوگا اور اگر خشوع و خضوع نصیب نہیں ہوتا اور تم بار بار کوشش کرتے ہو کہ تمہارے دل میں خیالات پیدا نہ ہوں تو پھر بھی تم ثواب کے مستحق ہو۔کیونکہ تمہاری شیطان سے لڑائی ہورہی ہے اور جو شخص لڑائی کر رہا ہو وہ گنہگار نہیں ہوتا۔جو شخص اپنے خیالات میں لذت محسوس کرے اور کہے کہ اگر خیالات پیدا ہوتے ہیں تو بے شک پیدا ہوں وہ ضرور گنہ گار ہے لیکن جو شخص ان خیالات کا مقابلہ کرتا ہے وہ خدا کا سپاہی ہے اور ثواب کا مستحق ہے۔الفضل ۹ جون ۱۹۴۴ء۔نمبر ۱۳۴) نمازمیں خیالات کا انتشار سوال :۔آپ نے ایک موقع پر کہا ہے کہ سب سے آسان ذریعہ خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا نماز ہے