فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 383

۳۸۳ ناچ گانا شریف خاندانوں کی عورتوں کو ناچنے والی بنادیا ہے۔میں چونکہ ادبی مسائل وغیرہ دیکھتا رہتا ہوں میں نے دیکھا ہے کہ سینما کے شوقین اور اس سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے مضامین میں عموماً ایک تمسخر ہوتا ہے اور ان کے اخلاق اور ان کا مذاق ایسا گندہ ہوتا ہے کہ حیرت آتی ہے۔سینما والوں کی غرض تو محض روپیہ کمانا ہوتی ہے نہ کہ لوگوں کو اخلاق سکھانا اور وہ روپیہ کمانے کے لئے ایسے لغو اور بیہودہ افسانے اور گانے پیش کرتے ہیں کہ جو اخلاق کو سخت خراب کرنے والے ہوتے ہیں اور شرفاء جب ان کو دیکھنے جاتے ہیں تو ان کا اپنا مذاق بھی بگڑتا ہے اور ان کے بچوں اور عورتوں کا بھی مذاق بگڑ جاتا ہے جن کو وہ سینما دکھانے کے لئے ساتھ لے جاتے ہیں یا جن کو واپس آکر وہاں کے قصے سناتے ہیں۔غرض سینما ملک کے اخلاق پر ایسا تباہ کن اثر ڈال رہے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں اگر میری طرف سے ممانعت نہ ہوتی تب بھی ہر بچے اور مخلص مومن کی روح اس سے اجتناب کرتی۔بعض احمدی پوچھتے ہیں کہ انگریزی فلموں میں تو کوئی لغو بات نہیں ہوتی ، ان کو دیکھنے کی اجازت دی جائے حالانکہ کوئی انگریزی فلم ایسی نہیں ہوتی جس میں گانا بجانا نہ ہواور گانا بجانا اسلام میں سخت منع ہے اور قرآن کریم کی اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کا بندہ ہی نہیں بن سکتا جب تک وہ گانے بجانے کی مجلسوں سے الگ نہ ہو۔تفسیر کبیر جلد ششم۔سورۃ الفرقان۔صفحہ ۵۸۷،۵۸۶) سینما اور تماشے سینما اور تماشے کے متعلق میں جماعت کو حکم دیتا ہوں کہ کوئی احمدی کسی سینما، سرکس تھیٹر وغیرہ غرضیکہ کسی تماشہ میں بالکل نہ جائے اور اس سے کلی پر ہیز کرے۔ہر مخلص احمدی جو میری بیعت کی قدر و قیمت کو سمجھتا ہے اس کے لئے سینمایا کوئی اور تماشہ وغیرہ دیکھنا یا کسی کو دکھانا نا جائز ہے۔( مطالبات تحریک جدید - نمبر ۳۷) سینما اپنی ذات میں بُرا نہیں بلکہ اس زمانہ میں اس کی جو صورتیں ہیں وہ مخرب الاخلاق ہیں۔اگر