فرموداتِ مصلح موعود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 462

فرموداتِ مصلح موعود — Page 357

۳۵۷ داڑھی والوں اور داڑھی منڈانے والوں دونوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔باقی چھوٹی یا بڑی داڑھی رکھنا انسان کی اپنی طبیعت اور حالات پر مبنی ہے وہ جیسی چاہے رکھ لے۔( الفضل ۱۴ اکتوبر ۱۹۶۰ء صفحه ۴ ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ تو ثابت ہے کہ آپ نے داڑھی رکھی اور یہ بھی ثابت ہے کہ دوسروں سے کہا رکھو۔مگر یہ کسی حدیث سے ثابت نہیں کہ آپ نے ارشاد فر ما یا انی لمبی داڑھی رکھو۔تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ بعض صحابہ کی داڑھی چھوٹی تھی چنانچہ حضرت علی کی چھوٹی داڑھی تھی اور مؤرخوں کی رائے ہے کہ عام طور پر صحابہ کی چھوٹی داڑھی تھی۔مظہر جانِ جاناں کے متعلق بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی داڑھی مختصر تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تو یاد نہیں مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق معلوم ہے کہ آپ تزئین کراتے اور داڑھی کے بال بھی تر شواتے تھے۔میں بھی ہمیشہ اسی طرح کراتا ہوں۔اس وقت میری جتنی داڑھی ہے اگر میں اسے بڑھنے دوں تو اور زیادہ لمبی ہو جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہفتہ وار داڑھی کے بال کتراتے جو کئی آدمیوں نے بطور تبرک رکھے ہوئے ہیں۔میرے پاس بھی ایک شیشی میں تھے جو کسی نے تبرک سمجھ کر اُٹھالی۔ایک دفعہ میں نے طالب علموں کو کہا کہ داڑھی نہ منڈوایا کروتو انہوں نے استرے سے منڈوانی چھوڑ دی۔لیکن استرے سے بھی نیچے کسی طرح قیچی پہنچا کر منڈ وادی جاتی اور جب پوچھا گیا تو انہوں نے کہامنڈ وائی نہیں کترائی ہے۔بات یہ ہے داڑھی ہونی چاہئے آگے خواہ وہ چاول کے دانہ کے برابر ہو چاہے لمبی ہو، یا پھر چاہے کوئی فیشن ہو۔جب صحابہ میں ایسے تھے جن کی چھوٹی داڑھی تھی تو کسی کی لمبی داڑھی دیکھ کر کہنا کہ اتنی ہونی چاہئے۔یہ شریعت سے معلوم نہیں ہوتا۔ہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لمبی داڑھی تھی۔اگر کوئی لمبی داڑھی رکھتا ہے تو وہ اس بارے میں بھی آپ سے محبت کا ثبوت دیتا ہے۔پس چاہئے داڑھی ایک جو کے برابر ہو یا دو جو کے، چاہے بالشت کے برابر